
ہریانہ میں منعقد مہاپنچایت میں حادثہ:کنڈیلہ گاؤں میں کسان مہاپنچایت کا گرااسٹیج،راکیش ٹکیت سمیت کئی رہنما زخمی
ہریانہ میں منعقد مہاپنچایت میں حادثہ:کنڈیلہ گاؤں میں کسان مہاپنچایت کا گرااسٹیج،راکیش ٹکیت سمیت کئی رہنما زخمی

جند ؍چنڈی گڑھ:(اردودنیا.اِن)جند کے گاؤں کنڈیلہ میں جاری مہاپنچایت میں ایک حادثہ پیش آگیا۔ راکیش ٹکیت جس اسٹیج سے کسانوں کو مخاطب کررہے تھے ،وہ گر گیا، کئی دوسرے کسان رہنما بھی اسٹیج پر موجود تھے۔
حادثے میں راکیش ٹکیت سمیت کئی رہنماؤں کو معمولی چوٹیں بھی آئیں۔ حادثے سے قبل مہا پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے کہا کہ حکومت کی طرف سے گھیراؤ ابھی ایک نمونہ ہے۔ آنے والے دنوں میں غریبوں کی روٹی پر قلعہ بندی کر دی جائے گی ۔
#WATCH | The stage on which Bharatiya Kisan Union (Arajnaitik) leader Rakesh Tikait & other farmer leaders were standing, collapses in Jind, Haryana.
A 'Mahapanchayat' is underway in Jind. pic.twitter.com/rBwbfo0Mm1
— ANI (@ANI) February 3, 2021
یہ تحریک اس بات کو یقینی بنانے کے لئے شروع کی گئی ہے کہ غریبوں کی روٹی تجوری میں رکھ نہ لی جائے، حکومت کو اکتوبر ماہ تک کا وقت دیا گیا ہے۔ کسان اس کے مطابق اگلی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کریں گے ، جو بھی صورتحال ہوگی،
اسی کے مطابق کسان اس پر تبادلہ خیال کریں گے۔سنگین دفعات کے متعلق راکیش ٹکیت نے کہا کہ جب تک یہ تحریک چلتی رہے گی ، اس کا سلسلہ آگے بڑھتا رہے گا۔ اس کے بعد میں جیل میں رہوں گا ۔ جب میڈیا نے لال قلعے پر مذہبی جھنڈا لگانے کے واقعے پر سوال اٹھایاتھا تو ٹکیت نے کہا کہ یہ سب حکومت کی شازس کا حصہ ہے ۔راکیش ٹکیت نے کہا کہ پچھلے 35 دنوں سے کسانوں کے مفاد میں تحریکیں چل رہی ہیں۔
اگرچہ ہم نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کا گھیراؤ کریں گے ، لیکن ہم نے کبھی لال قلعہ جانے کی بات نہیں کی اور نہ ہی لال قلعہ گئے۔ جن لوگوں نے 26 جنوری کو لال قلعہ گئے اور وہاں مخصوص پرچم لہرایا ،وہ کسان نہیں تھے اوریہ وہ لوگ تھے،جو حکومت کی سازش کا حصہ تھے، جب انہیں جانے کی اجازت ملی اور ان کو اس کا راستہ دیا گیا، تو وہ بغیر کسی روکاوٹ کے چلے گئے۔
کنڈیلہ میں مہاپنچایت میں 5 قراردادیں منظور کی گئیں ۔(۱)تینوں مرکزی زرعی قوانین کو منسوخ کیا جانا چاہئے۔(۲)کم سے کم سپورٹ پرائس (ایم ایس پی)سےمتعلق قانون سازی کی جانی چاہئے۔ (۳)سوامی ناتھن کی رپورٹ پر عمل درآمد کیا جانا چاہیے ۔ (۴)کسانوں کا قرض معاف کیا جائے۔(۵)26 جنوری کو گرفتار کئے گئے کسانوں کو رہا کیا جانا چاہیے اور ضبط کئے گئے ٹریکٹروں کوبھی چھوڑا جانا چاہیے ، نیز دائر مقدمات بھی واپس لئے جانے چاہیے۔



