بین ریاستی خبریں

پی آر سی مسئلہ پر جگن حکومت و ملازمین کے درمیان تعطل برقرار

3 جنوری کو احتجاجی حکمت عملی کا اعلان

حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)آندھراپردیش میں سرکاری ملازمین کیلئے پی آر سی PRC کے اعلان کا مسئلہ ہنوز تعطل کا شکار ہے ۔ ملازمین نمائندوں کے ساتھ حکومت نے آج دوبارہ بات چیت کی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ محکمہ فینانس کے عہدیداروں ششی بھوشن کمار اور ستیہ نارائنا کی قیادت میں ملازمین نمائندوں کے ساتھ پی آر سی سفارشات و ریاست کی معاشی صورتحال پر بات ہوئی ۔

اے پی این جی اوز ، اے پی ریونیو ایمپلائیز کے نمائندوں نے علحدہ طور پر عہدیداروں سے بات کی ۔ حکومت نے 27 فیصد عبوری راحت دینے کی تجویز پیش کی ہے۔ ملازمین کے نمائندوں نے عبوری راحت میں اضافہ کا مطالبہ کیا ۔ چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کی جانب سے دی گئی تجاویز سے ملازمین کے نمائندوں کو واقف کرایا گیا ۔ اجلاس کے بعد ملازمین کے نمائندوں نے عہدیداروں کے رویہ پر ناراضگی جتائی ۔

انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے ہفتہ 10 دن میں پی آر سی کے اعلان کا تیقن دیا تھا ۔ وقفہ وقفہ سے مختلف تیقنات دیئے گئے لیکن ابھی تک صورتحال واضح نہیں ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے صدرنشین بی سرینواس نے کہا کہ 3 جنوری کو جے اے سی کے اجلاس میں آئندہ کی حکمت عملی طئے کی جائے گی ۔

انہوں نے کم سے کم 32 فیصد عبوری راحت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ معاشی صورتحال کے بارے میں حکومت کی جانب سے غلط اعداد و شمار پیش کئے جارہے ہیں۔ ملازمین کی تنظیموں اور حکومت کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button