تمل ناڈو بل تنازعہ: صدر کے ریفرنس پر اسٹالن برہم، کہا — یہ آئینی خودمختاری پر حملہ ہے
صدر مرمو نے سپریم کورٹ کے 'فیصلے' پر پوچھے سوال، سی ایم اسٹالن نے کہا- ہم پوری طاقت سے لڑیں گے
چنئی، 15 مئی (اردو دنیا.اِن/ایجنسیز): صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کی جانب سے بلوں کی منظوری کے لیے گورنروں کے اختیارات اور مدت پر سپریم کورٹ سے رائے طلب کرنے کے بعد ملک کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس معاملے پر تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ مرکزی حکومت کے اس صدارتی ریفرنس کی سخت مخالفت کرتے ہیں، جس کا مقصد تمل ناڈو گورنر کیس اور دیگر معاملات میں سپریم کورٹ کے ذریعے طے شدہ آئینی موقف کو بدلنا ہے۔
وزیر اعلیٰ اسٹالن نے الزام عائد کیا کہ تمل ناڈو کے گورنر نے بی جے پی کی ہدایات پر کام کرتے ہوئے ریاست کے عوامی مینڈیٹ کو مجروح کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام منتخب ریاستی حکومتوں کو کمزور بنانے اور گورنروں کو مرکزی حکومت کے ایجنٹ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سپریم کورٹ کے اختیار اور آئینی اتھارٹی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے، جو جمہوریت کے لیے ایک خطرناک نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔
اسٹالن نے سوال کیا کہ گورنروں کے کام کے لیے وقت مقرر کرنے میں آخر کیا اعتراض ہے؟ کیا بی جے پی یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ گورنر بلاوجہ بلوں کی منظوری میں تاخیر کرتے رہیں؟ انہوں نے کہا کہ کیا مرکزی حکومت کا مقصد غیر بی جے پی ریاستی حکومتوں کو مفلوج کرنا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت کا رویہ اختیارات کی علیحدگی کے آئینی اصولوں کے خلاف اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے والا ہے۔
انہوں نے ملک بھر کی غیر بی جے پی ریاستوں اور اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ اس قانونی جنگ میں شامل ہوں اور آئین کی حفاظت کے لیے متحد ہوں۔ اسٹالن نے زور دے کر کہا، ’’ہم یہ جنگ پوری قوت سے لڑیں گے، تمل ناڈو لڑے گا اور تمل ناڈو جیتے گا۔‘‘ یاد رہے کہ صدر جمہوریہ نے سپریم کورٹ سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ آیا آرٹیکل 200 کے تحت گورنر کے سامنے پیش کیے گئے بل پر کوئی مخصوص مدت دی جا سکتی ہے یا نہیں، جب کہ آئین میں اس کی کوئی صراحت موجود نہیں۔



