مہا کمبھ میں مچی بھگدڑ، 30 افراد کی موت، درجنوں زخمی
انتظامیہ کی تصدیق: مہا کمبھ بھگدڑ میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد30ہوگئی، 90 زخمی
پریاگ راج، 29جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اترپردیش کے پریاگ راج میں کمبھ میلے کے دوران بھگدڑ مچ گئی جس میں مبینہ طور پر 30 کی موت ہو گئی جب کہ 50 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے، حالانکہ سرکاری طور پر تاحال اموات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ دراصل ہندو مذہب میں ’مونی اماوسیہ‘ کے دن سنگم پر اسنان کرنا بہت مقدس مانا جاتا ہے۔اس موقعے پر اسنان کے لیے عقیدت مندوں کا بہت بڑا ہجوم جمع ہو گیا۔ اس دوران بھیڑ میں افواہ پھیلنے کی وجہ سے بھگدڑ مچ گئی۔اس بھگدڑ کے دوران کئی لوگوں کی موت ہوگئی۔
زخمیوں کو درجنوں ایمبولینسوں میں مہاکمبھ سینٹرل اسپتال لایا گیا۔ ڈی آئی جی مہا کمبھ ویبھو کرشنا نے کہا کہ بھگدڑ میں تیس افراد کی موت ہو گئی ہے۔ 30 لاشوں کی شناخت کر لی گئی ہے۔ 90 افراد اسپتال میں داخل ہیں۔واضح رہے کہ، تقریباً 16 گھنٹے بعد انتظامیہ نے ہلاکتوں کی آفشیل تعداد جاری کی ہے۔ مہا کمبھ کے ڈی آئی جی نے کہا کہ زخمیوں میں سے کچھ کو ان کے رشتہ دار لے گئے ہیں۔
بھاری ہجوم کی وجہ سے رکاوٹیں ٹوٹ گئی تھیں۔ جس کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ جہاں زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔ کئی شدید زخمیوں کو اعلیٰ مراکز میں بھی بھیجا گیا ہے۔ مہا کمبھ میلے کی او ایس ڈی آکانکشا رانا نے میڈیا کے سامنے آکر جانکاری دی۔انہوں نے کہا کہ سنگم میں بھیڑ کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا۔ حالانکہ ان کا دعویٰ ہے کہ کسی کی بھی حالت بہت سنجیدہ نہیں ہے۔ لیکن زخمیوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
مہا کمبھ میلے کے مرکزی اسپتال کو چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ میڈیا کو بھی اسپتال میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا ہے۔ مہا کمبھ میں حادثے کے بعد وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے دہلی میں آج اور کل ہونے والی میٹنگیں منسوخ کر دی ہیں۔ سی ایم کل پریاگ راج جا سکتے ہیں۔سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر لکھا کہ، مہا کمبھ میلہ علاقہ پریاگ راج کے شہری علاقے بڑے پیمانے پر نقل و حمل کے مرکز پریاگ راج شہر کی سرحدوں اور مختلف شہروں سے پریاگ راج جانے والی سڑکوں کے بند ہونے کی وجہ سے کروڑوں لوگ سڑکوں پر پھنسے ہوئے ہیں۔
لاکھوں گاڑیوں میں کروڑوں لوگ دسیوں کلومیٹر طویل جام میں پھنسے ہوئے ہیں۔حکومت کو اسے معمول کے ریسکیو آپریشن کے بجائے انتظامی غفلت کی وجہ سے پیش آنے والی تباہی سمجھ کر فوری ایکشن لینا چاہیے۔کھانا اور پانی کی امداد غروب ہونے سے پہلے عقیدت مندوں تک پہنچنی چاہیے اور انہیں یقین دلایا جانا چاہیے کہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں اس بات کو یقینی بنانے کے لیے انتظامات کریں گی کہ ہر کوئی محفوظ طریقے سے اپنی منزل تک پہنچ جائے۔ جو لوگ لاپتہ ہیں ان کو تلاش کر کے بحفاظت ان کے گھروں کو بھیج دیا جائے گا۔ مرنے والوں کے احترام کے پیش نظر تمام تقاریب، تہوار اور استقبالیہ پروگراموں کو منسوخ کر دینا چاہیے۔
مہا کمبھ حادثے کے متاثرین کے اہل خانہ ماتم کناں ہیں۔ لوگ دیر تک ہجوم میں اپنے پیاروں کو ڈھونڈتے رہے۔ میلے کے علاقے کے سیکٹر 2 میں واقع سینٹرل اسپتال میں موجود ایک عینی شاہد نے بتایا کہ لوگ دیر رات نہانے کے لیے گھاٹ پر رک گئے تھے۔ اس دوران عقیدت مندوں کا ایک ہجوم سنگم کی طرف بڑھ گیا تو دوسری طرف سے نہانے والے لوگوں کا ہجوم نکل رہا تھا۔ بھیڑ کے دباؤ میں اچانک اضافہ ہونے سے افراتفری مچ گئی۔ تھوڑی ہی دیر میں بھگدڑ بھی مچ گئی۔ایک عینی شاہد نے بتایا کہ ہم ایک دوسرے کو بچانے کی کوشش کرتے رہے لیکن ہجوم ہمارے اوپر گرتا رہا۔
ہجوم لوگوں کے اوپر سے آگے بڑھ رہا تھا۔گورکھپور سے آئے ایک عقیدت مند نے بتایا کہ سنگم علاقے میں کافی بھیڑ تھی۔ تین بار بھگدڑ مچی۔ زیادہ تر لوگ گھاٹ کے کنارے سو رہے تھے۔ پولیس اہلکار انہیں اٹھانے لگے۔ اس کے تھوڑی دیر بعد بھگدڑ مچ گئی۔ رات ڈیڑھ سے ڈھائی بجے کے درمیان پیش آنے والے اس حادثے کے بعد زخمیوں کو ایمبولینسوں میں اسپتال لے جانے کا سلسلہ صبح آٹھ بجے تک جاری رہا۔
بھگدڑ پر کمبھ میلہ اتھارٹی کی اسپیشل ایگزیکٹیو آفیسر آکانکش رانا نے کہا کہ سنگم نوز پر بیریئر ٹوٹنے کے بعد بھگدڑ جیسی صورت حال پیدا ہوگئی۔ اس واقعے میں متعدد لوگ زخمی ہوگئے ہیں، جن کا علاج جاری ہے۔کمبھ میلے کے افسر وجے کرن آنند نے بتایا کہ بھگدڑ افواہ کی وجہ سے مچی۔ اس میں کئی لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جب کہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ انتظامیہ راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی آل انڈیا اکھڑا پریشد کے صدر مہنت رویندر پوری نے آج کا شاہی اسنان منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔واقعے کے بعد سنگم کے ساحل پر این ایس جی کمانڈوز کو تعینات کر دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی عام لوگوں کے داخلے پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
پریاگ راج سرحد پر پولیس اور انتظامیہ کے اہلکار تعینات ہیں۔ اب لوگوں کو مہا کمبھ میں آنے سے روکا جا رہا ہے۔مہا کمبھ میں بھگدڑ کے بعد پولیس اور انتظامیہ کی کئی ٹیمیں موقعے پر موجود ہیں۔ ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے۔ ٹیم زخمیوں کو ہسپتال لے جا رہی ہے۔ حالانکہ سنگم پر عقیدت مندوں کا سامان جا بجا بکھرا پڑا ہے۔
مہاکمبھ بھگدڑ پر پی ایم مودی کا اظہار تعزیت ،کہا واقعہ افسوسناک ہے
پی ایم مودی نے مہا کمبھ میں بھگدڑ کے واقعہ پر غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہاکہ پریاگ راج مہا کمبھ میں پیش آنے والا حادثہ انتہائی افسوسناک ہے۔ ان عقیدت مندوں سے میری گہری تعزیت ہے جنہوں نے اس میں اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔ اس کے ساتھ میں تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتا ہوں۔ مقامی انتظامیہ متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے میں مصروف ہے۔ اس سلسلے میں میں نے وزیر اعلی یوگی جی سے بات کی ہے اور میں ریاستی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں۔اکھلیش یادو نے پریاگ راج مہاکمبھ میں بھگدڑ پر غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہاکمبھ میں آنے والے سنت برادری اور عقیدت مندوں میں نظام پر اعتماد بحال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مہا کمبھ کے انتظام اور انتظام کو فوری طور پر سونپ دیا جائے۔ ‘
اسے یوپی حکومت اور انتظامیہ کے بجائے فوج کے حوالے کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اب جبکہ عالمی سطح پر انتظامات کرنے کے دعوو?ں کے پیچھے کی حقیقت سامنے آ گئی ہے، جو لوگ یہ دعوے کر رہے تھے اور جھوٹا پروپیگنڈہ کر رہے تھے، انہیں اس حادثے میں ہونے والی ہلاکتوں کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دینا چاہیے۔غم کا اظہار کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے ٹویٹر پر کہا کہ پریاگ راج میں سنگم سائٹ پر مہا کمبھ کے دوران بھگدڑ میں عقیدت مندوں کے زخمی اور موت انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہے۔ ایسے وقت میں پارٹی کی خواہش ہے کہ متاثرین کو یہ دکھ برداشت کرنے کی طاقت ملے۔
یوپی کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے نے پریاگ راج مہاکمب کے دوران بھگدڑ پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہاکمب میں مونی اماوسیہ کے دن نہانے کے موقع پر بھگدڑ سے کئی لوگوں کے ہلاک اور زخمی ہونے کی خبر تکلیف دہ ہے۔ریاستی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک واقعہ میلے کی بدانتظامی اور اتر پردیش حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ یوگی حکومت نے سارا پیسہ صرف اس کی برانڈنگ اور مارکیٹنگ پر خرچ کیا نہ کہ مہا کمبھ میں آنے والے عقیدت مندوں کے انتظامات پر۔ یہ اس حکومت کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے۔
کمبھ میلہ کے ایس ایس پی راجیش دویدی نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھگدڑ نہیں ہوئی، زیادہ ہجوم تھا۔ اس وقت صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔عقیدت مندوں سے اپیل ہے کہ وہ کسی بھی افواہ پر یقین نہ کریں۔ عقیدت مندوں کو ان کے لیے بنائے گئے گھاٹوں پراشنان کرنا چاہیے اور جلد از جلد اپنے گھروں کو لوٹ جانا چاہیے ۔ خیال رہے کہ اس بھگدڑ میں مہلوکین کی درست تعداد کی وضاحت نہیں ہوسکی ہے۔ ہلاکت کے متعلقہ متضاد اطلاعات ہیں۔
مہاکمبھ میں بھگدڑ کے بعد حالات حسب معمول رواں دواں
پریاگ راج، 29جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) بدھ کی دیر شب پریاگ راج میں جاری مہاکمبھ میں بھگدڑ کے بعد حالات اب معمول پر آ گئے ہیں۔ تروینی سنگم میں عقیدت مند مسلسل ڈبکی لگا رہے ہیں۔ بدھ کی دیر رات مونی اماوسیہ کے موقع پر بڑی تعداد میں عقیدت مند امرت سنان کے لیے جمع ہوئے جس کی وجہ سے سنگم گھاٹ پر بھگدڑ مچ گئی۔اس حادثے میں کئی عقیدت مند زخمی اور ہلاک ہوئے،تاہم مہلوکین کی درست تعداد واضح نہیں ہوسکی ہے،کئی متضاد دعوے کئے جا رہے ہیں،جس کی تصدیق نہیں کی جاسکتی ہے۔ زخمیوں کو علاج کے لیے گرین کوریڈور کے ذریعے ایمبولینس کے ذریعے اسپتال لے جایا گیا۔ اس حادثے کے پیش نظر تمام 13 اکھاڑوں نے آج کے لیے اپنا امرت اسنان روک دیا ہے۔اکھاڑوں کے سنت اپنے کیمپوں کو لوٹ گئے۔ ان کا خیال ہے کہ ایسے حالات میں اگر وہ نہانے گئے تو نظام کو برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔
تمام اکھاڑوں نے یہ فیصلہ عوامی مفاد میں اجتماعی طور پر کیا۔بھگدڑ جیسی صورتحال کے بعد اکھاڑہ پریشد کے جنرل سکریٹری اور جونا اکھاڑہ کے سرپرست مہنت ہری گری نے عقیدت مندوں سے اپیل کی کہ وہ جہاں بھی ہوں گنگا میں نہا کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور نیکی کا فائدہ اٹھائیں مہاکمبھ میں کچھ خواتین بھیڑ کی وجہ سے دم گھٹنے سے بے ہوش ہوگئیں۔ تروینی پر کچھ خواتین زخمی ہوئیں، فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا۔زخمی خواتین کو گرین کوریڈور بنا کر اسپتال میں داخل کرایا گیا۔
بڑی بھیڑ کو دیکھ کر 13 اکھاڑوں کے شاہی سنتوں نے امرت سنانا ملتوی کر دیا۔پی ایم مودی نے یوپی کے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ سے بات کی اور صورتحال کا جائزہ لیا۔زخمیوں کو سیکٹر 2 میں 100 بستروں پر مشتمل سینٹرل ہسپتال لے جایا گیا۔شدید زخمیوں کو بیلی اسپتال اور کالون بھیج دیا گیا۔شدید ترین مریض کو سوروپ رانی میڈیکل کالج بھیج دیا گیا۔خیال رہے کہ اس واقعہ میں مہلوکین کی درست تعداد واضح نہیں ہوسکی ہے کہ آیا مہلوکین کی اصل تعداد کتنی ہے۔



