بین الاقوامی خبریں

امریکہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی غیر قانونی بستیوں کی تعمیر کے خلاف

نیویارک، 27اکتوبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)بائیڈن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کا ”سخت مخالف” ہے۔ صدر ٹرمپ مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی تعمیر کی کھل کر حمایت کیا کرتے تھے اور اس لحاظ سے یہ اقدام ایک بڑی پالیسی تبدیلی ہے۔مشرق وسطی سے متعلق امریکہ کی سابقہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس نے 26 اکتوبر منگل کے روز اپنے ایک اہم بیان میں کہا کہ اسے مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیل کی جانب سے بستیوں کی تعمیر کے سلسلے میں،شدید فکر لاحق ہے۔

صدر جو بائیڈن کی نئی انتظامیہ اسرائیل کو اس سے قبل بھی متعدد بار خبردار کر چکی تھی کہ وہ فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کی سرزمین پر اپنی بستیوں کی تعمیر کو روکے۔ اسے ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی سے ہٹ کر ایک بنیادی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جو نئی بستیوں کی تعمیر کی کھل کر حمایت کرتی تھی۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ ہم بستیوں کی توسیع کی سختی سے مخالفت کرتے ہیں، جو کہ کشیدگی کو کم کرنے اور امن کو یقینی بنانے کی کوششوں سے قطعی طور پر مطابقت نہیں رکھتا، اور اس سے دو ریاستی حل کے امکانات کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

صحافیوں سے بات چیت میں نیڈ پرائس نے کہا، ”ہمیں اسرائیلی حکومت کی ہزاروں بستیوں کی یونٹس کو آگے بڑھانے کے منصوبے پر گہری تشویش لاحق ہے۔” گزشتہ اتوار کو ہی اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقے غرب اردن میں تقریبا ًساڑھے تیرہ سو مزید مکانات کی تعمیر کو منظوری دی تھی جس کے بعد امریکا نے یہ سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔

دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے تعمیرات کے وزیر زیو الکن کا کہنا تھا کہ مغربی کنارے میں یہودیوں کی آبادی بڑھانے کے مقصد اورصیہونی وژن کے لیے یہ تعمیرات ضروری ہیں۔ میں یہودیہ اور سامریہ میں یہودی بستیوں کی تعمیر برقرار رکھوں گا۔

پونے پانچ لاکھ سے بھی زیادہ اسرائیلی یہودی ان مقبوضہ زمینوں پر بسائی گئی بستیوں میں پہلے سے ہی آباد ہیں۔ ان فلسطینی علاقوں پر اسرائیل جنگ کے بعد سے ہی قابض ہے، جبکہ فلسطینیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ علاقے ان کی مستقبل کی ریاست کا حصہ ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق اسرائیل کی ان بستیوں کو غیر قانونی سمجھا جاتا ہے۔

فلسطین کے وزیر اعظم محمود اشتیہ نے اپنے ایک بیان میں واشنگٹن سے بستیوں کی توسیع کے معاملے میں اسرائیل پر لگام کسنے کی بات کہی تھی۔

امریکہ کی سابق ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کے تئیں امریکی خارجہ پالیسی کے رجحان سے انحراف کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر آبادکاری کو فروغ دینے کی پالیسی اپنا رکھی تھی۔ ٹرمپ نے تو اپنے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو ان غیر قانونی بستیوں میں سے ایک کا دورہ کرنے کے لیے بھی بھیجا تھا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button