بین ریاستی خبریں

ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھیشیک کیخلاف سی بی آئی-ای ڈی جانچ پر روک

سپریم کورٹ نے مغربی بنگال ٹیچر بھرتی گھوٹالہ میں ای ڈی اور سی بی آئی کے ذریعہ ترنمول لیڈر ابھیشیک بنرجی سے پوچھ گچھ پر روک لگا دی

نئی دہلی،17 اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے مغربی بنگال ٹیچر بھرتی گھوٹالہ میں ای ڈی اور سی بی آئی کے ذریعہ ترنمول لیڈر ابھیشیک بنرجی سے پوچھ گچھ پر روک لگا دی ہے۔ سپریم کورٹ اس معاملے کی اگلی سماعت 24 اپریل کو کرے گی اور اس وقت تک تفتیشی ایجنسیاں ابھیشیک سے پوچھ گچھ نہیں کر پائیں گی۔ہائی کورٹ نے سی بی آئی-ای ڈی افسران پر ایف آئی آر کے اندراج پر پابندی لگا دی تھی۔13اپریل کو کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس ابھی جیت گنگوپادھیائے نے حکم دیا تھا کہ ای ڈی اور سی بی آئی جیسی مرکزی ایجنسیاں ضرورت پڑنے پر ابھیشیک سے پوچھ گچھ کر سکتی ہیں۔ اور اس کی تحقیقات جلد کی جائیں۔ ہائی کورٹ نے بنگال پولیس کو بھی ہدایت دی تھی کہ وہ اس کیس کی جانچ کر رہے سی بی آئی اور ای ڈی افسران کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہ کرے۔ابھیشیک بنرجی نے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔

سی جے آئی ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس جے بی پاردی والا کی بنچ نے پیر کو دونوں احکامات پر روک لگا دی۔ 29مارچ کو ابھیشیک بنرجی نے کہا تھا کہ ایجنسیوں کی تحویل میں لوگوں پر گھوٹالے میں میرا نام لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس معاملے میں ایک اور ملزم کنتل گھوش نے بھی الزام لگایا تھا کہ ان پر ابھیشیک بنرجی کا نام لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔گھوش کو ای ڈی نے گرفتار کیا اور ان کی تحویل میں دے دیا۔ اس کے بعد انہیں 20 فروری سے 23 فروری تک سی بی آئی کی حراست میں بھیج دیا گیا۔ کنتل گھوش نے اپنے الزامات کو لے کر سی بی آئی کے خلاف ٹرائل کورٹ کے جج کو ایک خط بھی لکھا تھا۔ اس پر کلکتہ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اس بات کی جانچ کرنی ہوگی کہ آیا گھوش نے ابھیشیک بنرجی کی تقریر سے متاثر ہو کر اپنے الفاظ کہے تھے

۔ ایسے میں سی بی آئی-ای ڈی جب چاہے ابھیشیک سے پوچھ گچھ کر سکتی ہے۔بنرجی نے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا تھا کہ کلکتہ ہائی کورٹ کے جج گنگوپادھیائے انہیں پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے گزشتہ سال ستمبر میں ایک نیوز چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔ بنرجی نے یہ بھی کہا کہ جسٹس گنگوپادھیائے نے کھلی عدالت میں کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے ججوں پر تبصرہ کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے جج جو چاہیں کر سکتے ہیں؟ کیا یہ جاگیرداری ہے؟۔

متعلقہ خبریں

Back to top button