سرورققومی خبریں

پاپولرفرنٹ کے دہلی آفس پر یوپی ایس ٹی ایف کا چھاپہ

 

raids PFI office

نئی دہلی: (اردودنیا.اِن)اتوارکے روز اترپردیش کے ایس ٹی ایف نے دہلی کے شاہین باغ میں مبینہ طور پر متعدد مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ ان میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (PFI) کا دفتربھی شامل ہے۔

یو پی پولیس نے یہ کارروائی مبینہ ہا تھرس فسادات کی مالی اعانت اور سی اے اے – این آر سی احتجاج کے دوران تشددکے الزام میں رؤف شریف سے پوچھ گچھ کے بعد کی ہے۔

رؤف کیرل میں پی ایف آئی کے اسٹوڈنٹ ونگ کیمپس فرنٹ آف انڈیا (سی ایف آئی) کے جنرل سکریٹری ہیں۔ انہیں کیرل میں ہی یوپی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔خیال رہے کہ ضلع متھرا میں 5 اکتوبر کی رات پولیس نے مونٹ ٹول پلازہ سے پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) اور اس سے وابستہ (سی ایف آئی) سے وابستہ چار افراد کو گرفتار کیا،

ان میں کیرالہ کے ملا پورم سے تعلق رکھنے والے صحافی صدیق کپن ، مظفر نگر کے عتیق الرحمن ، بہرائچ سے مسعود احمد اور رام پور سے عالم شامل ہیں۔یہ بھی یوپی پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ گرفتار پی ایف آئی ممبران سے ہاتھرس گینگ ریپ کیس سے متعلق مزعومہ طورپر اشتعال انگیز لٹریچر ملاتھا ،چاروں ملزمان دہلی سے آئے تھے اور ہاتھرس جارہے تھے۔

نام نہاد انکوائری میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ پی ایف آئی نے ہاتھرس میں نسلی فسادات کو بھڑکانے کے لئے مالی اعانت فراہم کی تھی۔واضح ہوکہ 14 ستمبر کو ضلع ہاتھرس میں چندپا بل گڑھی گاؤں میں 4 لوگوں نے مل کر 19 سالہ دلت لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی تھی ،

پھرزیادتی کے بعد لڑکی کی ریڑھ کی ہڈی توڑ ی اور زبان بھی کاٹ لی تھی۔یوپی پولیس اس سے انکار کرتی رہی تھی ، لیکن سی بی آئی جانچ میں یہ یوپی پولیس کے جھوٹ کا پردہ فاش ہوگیا۔ متاثرہ دلت لڑکی کا 29 ستمبر کو دہلی میں صفدر جنگ اسپتال میں علاج کے دوران انتقال ہوگیاتھا،چاروں ملزمان جیل میں ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button