شیئر بازار میں بھاری گراوٹ،سرمایہ کاروں کو آٹھ لاکھ کروڑ روپے کا بھاری نقصان
بازار کی توقعات الٹ گئیں، سرمایہ کار حیران
شیئر بازار میں تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان
ممبئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)ریپو ریٹ میں کمی، بینکوں کو اضافی لیکویڈیٹی اور آر بی آئی کے نیوٹرل اسٹانس کے باوجود پیر کے روز شیئر بازار نے انتہائی منفی رجحان دکھایا۔ توقع تھی کہ مالیاتی نرمی کے بعد مارکیٹ میں تیزی آئے گی، مگر اس کے برعکس چند ہی گھنٹوں میں سرمایہ کاروں کے تقریباً آٹھ لاکھ کروڑ روپے ڈوب گئے، جس نے سب کو حیران کر دیا۔
بازار کے آغاز ہی سے سنسیکس پر دباؤ بڑھتا گیا اور کچھ دیر میں گراوٹ 800 پوائنٹس سے زیادہ تک پہنچ گئی۔ سنسیکس نے آج 85,624 پوائنٹس پر ٹریڈنگ کا آغاز کیا، لیکن دوپہر تک یہ 745 پوائنٹس گر کر 84,969 پوائنٹس پر آ گیا۔ بعد میں انڈیکس مزید نیچے کھسکتا ہوا 84,906 پوائنٹس پر بند ہوا، جو کہ مجموعی طور پر 805 پوائنٹس کی نمایاں گراوٹ ہے۔
اسی طرح نفٹی نے بھی دن بھر کمزور کارکردگی دکھائی۔ انڈیکس نے 26,159 پوائنٹس سے آغاز کیا مگر سیشن کے دوران یہ تقریباً 280 پوائنٹس نیچے آ کر 25,922 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔ دوپہر کے وقت نفٹی 253 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 25,932 پوائنٹس پر کاروبار کرتا نظر آیا، جو بازار میں گہری مندی کی نشاندہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیگو کے شیئرز میں اچانک آئی تیز گراوٹ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ دوسری جانب آئندہ ہفتے فیڈرل ریزرو کی میٹنگ سے متعلق بے یقینی بھی بازار پر بھاری پڑ رہی ہے، جہاں شرحِ سود میں مزید 25 بیسس پوائنٹس کی تخفیف کے امکان پر سرمایہ کار محتاط رخ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس دنیا کے کئی ممالک کے سینٹرل بینک جلد سود کی شرح پر ’پاؤز‘ لگا سکتے ہیں، جو عالمی مالیاتی ماحول کو مزید غیر یقینی بنا رہا ہے۔
اس کے علاوہ روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے بھی بھارتی شیئر بازار کو جھٹکا دیا۔ ماہرین کے مطابق یہ دونوں عوامل معیشت کی لاگت بڑھاتے ہیں، جس کے اثرات سب سے پہلے اسٹاک مارکیٹ پر ظاہر ہوتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا مشورہ ہے کہ اس غیر یقینی ماحول میں سرمایہ کار گھبراہٹ میں فیصلے کرنے سے گریز کریں۔ مضبوط کمپنیوں میں طویل مدتی سرمایہ کاری موجودہ حالات میں بہتر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔



