
نئی دہلی،یکم فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے عصمت دری اور قتل کیس میں سزائے موت پانے والے شخص کی پھانسی پر روک لگا دی ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ سزائے موت کی تصدیق کیلئے حالات کو دیکھنے کے لیے مجرم کی طبی حالت ایک اہم پہلو ہے۔ سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملزم کو 11 سال سے عقوبت خانے میں رکھا گیا ہے۔
رحم کی درخواست نمٹانے میں 550 دن لگے اور بتایا گیا کہ ان کی دماغی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ پھانسی پر عمل درآمد پر روک لگاتے ہوئے سپریم کورٹ نے ریاست کرناٹک سے مجرم کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (نیمہنس) کے ڈائریکٹر سے بھی کہا ہے کہ وہ اس کی نفسیات پر رپورٹ پیش کریں۔
عرضی گزار امیش ریڈی کی جانب سے سپریم کورٹ میں درخواست داخل کی گئی ہے۔ خاتون کی عصمت دری اور قتل کیس میں بنگلور کی سیشن کورٹ نے 2006 میں ملزم کو موت کی سزا سنائی تھی۔ یہ واقعہ 1998 کا ہے۔
اس کے بعد یہ معاملہ ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ تک پہنچا۔ سپریم کورٹ نے 2011 میں سزائے موت کی توثیق کی تھی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ میں نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی جسے خارج کر دیا گیا۔



