آبنائے ہرمز بحران: 35 ممالک کے ہنگامی اجلاس کی تیاری، عالمی توانائی سپلائی بحالی پر غور
آبنائے ہرمز کی بحالی آسان نہیں مگر عالمی تعاون ناگزیر ہے
لندن 02 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) عالمی توانائی بحران کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر برطانیہ نے آبنائے ہرمز کی بندش کے معاملے پر فوری سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ اس اہم بحری راستے کی بحالی کے لیے 35 ممالک پر مشتمل ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جا رہا ہے۔
وزیرِاعظم کے مطابق یہ اجلاس نہ صرف موجودہ کشیدہ صورتِ حال کا جائزہ لے گا بلکہ جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے لیے عملی اور سفارتی حکمتِ عملی بھی تیار کرے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس اسٹریٹجک راستے کو دوبارہ کھولنا ایک پیچیدہ اور مشکل عمل ہوگا، جس کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔
برطانوی وزیرِ خارجہ کی جانب سے آج ہونے والے ورچوئل اجلاس میں مختلف ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے، جہاں پھنسے ہوئے جہازوں اور ان کے عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تیل و گیس سمیت اہم اشیاء کی ترسیل بحال کرنے کے طریقہ کار پر غور کیا جائے گا۔
کیئر اسٹارمر نے مزید کہا کہ اجلاس کے بعد فوجی ماہرین بھی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور بحری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے ممکنہ اقدامات تجویز کریں گے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں اور اس کے جواب میں ایران کے حملوں کے باعث آبنائے ہرمز عملی طور پر بند ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی توانائی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔ یہ بحری راستہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
بحری گزرگاہ کی بندش کے فوری اثرات عالمی منڈیوں پر بھی دیکھے جا رہے ہیں، جہاں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ کئی ممالک نے بحران کے پیش نظر اپنے اسٹریٹجک ذخائر استعمال کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور نیدرلینڈز سمیت متعدد ممالک پہلے ہی اس اہم بحری راستے کو محفوظ بنانے کے لیے تعاون پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ محض بیانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ متاثرہ ممالک یا تو امریکہ سے ایندھن خریدیں یا خود کارروائی کر کے راستہ کھلوانے کی ذمہ داری اٹھائیں۔
ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز طویل عرصے تک بند رہی تو اس کے اثرات نہ صرف توانائی مارکیٹ بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے ہوں گے، جس سے مہنگائی اور تجارتی عدم استحکام میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔



