بین الاقوامی خبریں

ایران کی قید سے آزاد ہونے والی اطالوی صحافیہ کے ایرانی حکام کے متعلق’عجیب‘ انکشافات!

تہران میں اپنی حراست کے عرصے کی بعض تفصیلات کا انکشاف

لندن ،20جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) معروف اطالوی خاتون صحافی سیسلیا سالا نے امریکی اخبارنیوریارک ٹائمز کو انٹرویو میں تہران میں اپنی حراست کے عرصے کی بعض تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ سالا تین ہفتوں تک ایران میں ایوین جیل میں حراست میں رہی۔ انھیں کچھ عرصہ قبل اطالیہ میں قید ایرانی شہری محمد عابدینی کی رہائی کے مقابل آزاد کیا گیا۔ عابدینی کو امریکا کی درخواست پر گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر ان ڈرون طیاروں کے پرزہ جات اسمگل کرنے کا الزام تھا جو تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت میں استعمال ہوئے۔ جنوری 2024 میں ان ڈرون طیاروں نے اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔اطالوی صحافیہ ایران سے متعلق خبروں کی کوریج کرتی تھی اور اس نے 2022 کے احتجاج سے ایک برس قبل 2021 میں ایران کا دورہ کیا تھا۔

اس کے باوجود آخری صدارتی انتخابات کی کوریج کے لیے گذشتہ دو برسوں کے دوران میں سالا کی ایران میں داخلے کے لیے ویزے کی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ سالا کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ کبھی ایران نہیں جائے گی، کم از کم اس وقت تک جب تک موجودہ حکومت برسر اقتدار ہے۔مسعود پزشکیان کے صدر بننے کے بعد سالا کے ساتھیوں نے اسے بتایا کہ نئی حکومت غیر ملکی صحافیوں کے حوالے سے زیادہ کشادہ پالیسی اپنا سکتی ہے کیوں کہ وہ یورپ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی خواہش مند ہے۔اس مشورے کی روشنی میں 29 سالہ صحافیہ نے ویزا حاصل کرنے کی نئی درخواست دی جو اس مرتبہ منظور کر لی گئی۔

سالا نے بتایا کہ گذشتہ ماہ 19 دسمبر کو وہ تہران میں اپنے ہوٹل کے کمرے میں روازنہ کی پوڈکاسٹ کی تیاری کر رہی تھی کہ اس دوران میں پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس کے اہل کاروں نے کمرے پر دھاوا بول دیا۔ سالا نے اپنا موبائل فون لینے کی کوشش کی تو ایک اہلکار نے فون چھین کر ایک طرف پھینک دیا۔ اطالوی صحافیہ نے بتایا کہ اسے آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایوین جیل منتقل کیا گیا۔

الزامات کے بارے میں پوچھنے پر بتایا گیا کہ اس نے مختلف مقامات پر غیر قانونی سرگرمیاں انجام دی ہیں۔سالا کے مطابق گرفتاری کے لمحے سے ہی اسے خوف تھا کہ مجھے تبادلے کی ڈیل کے مقصد سے یرغمال بنا لیا جائے گا۔سالا کے مطابق اس نے اپنی گرفتاری سے تین روز قبل اخبار میں پڑھا تھا کہ اطالیہ نے محمد عابدینی نجب آبادی کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایرانی نژاد سوئس انجینئر کو امریکا کی درخواست پر حراست میں لیا گیا۔سالا نے مزید بتایا کہ ایوین جیل میں اسے قیدیوں والے کپڑے دیے گئے جن کے ساتھ عبایا بھی تھا۔ ساتھ ہی سالا سے اس کی عینک لے لی گئی جس کے نتیجے میں وہ تقریبا نابینا ہو گئی کیوں کہ اس کی نظر انتہائی کمزور ہے۔ سالا کے مطابق جیل کی کوٹھڑی میں اس کے پاس صرف دو کمبل تھے جب کہ تکیے اور بستر کا کوئی وجود نہ تھا۔

کوٹھڑی میں بتی ہمیشہ روشن رہتی تھی جس کی وجہ سے سالا کو سونے میں کافی پریشانی رہتی تھی۔ سالا کو کوٹھڑی میں ایک جگہ خون بھی نظر آیا۔اطالوی صحافیہ نے بتایا کہ تفتیش کے دوران، اسے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور وہ دیوار کی طرف منہ کر کے بیٹھتی تھی۔ محقق انگریزی میں روانی سے بات کرتا تھا اور اسے اطالیہ کے بارے میں اچھی خاصی معلومات تھیں۔ سالا کے مطابق وہ سوچتی تھی کہ میں جیل میں انسان کی حیثیت سے داخل ہوئی مگر باہر جانور بن کر جاؤں گی۔البتہ سالا طویل عرصے تک جیل میں نہیں رہی اور آٹھ جنوری کو وہ طیارے میں سوار اپنے وطن لوٹ رہی تھی۔ اس کے کچھ دیر بعد اطالیہ میں محمد عابدینی کو رہا کر دیا گیا۔

ایک ایرانی ذمے دار کے مطابق ایلون مسک نے سیسلیا سالا کی رہائی میں کردار ادا کیا۔ اس بات کی تصدیق مسک نے 16 جنوری کو ایکس پر ایک پوسٹ میں کی جہاں اس نے لکھا کہ میں نے ایک چھوٹا سا کردار ادا کیا۔مغربی میڈیا ایران پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ مغربی ممالک کی جیلوں میں ایرانی قیدیوں کو یا ایران کی منجمد رقوم کو آزاد کرانے کے لیے یرغمالیوں کی حراست کی سفارت کاری کا استعمال کرتا ہے۔ مذکورہ میڈیا کے نزدیک یہ مغرب کے ساتھ معاملات کے لیے ایران کی سودے بازی کا ذریعہ ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button