بین الاقوامی خبریںسرورق

مراکش میں تباہ کن زلزلہ، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد600 سے متجاوز کر گئیں

وسطی مراکش میں شدید زلزلہ آیا،

رباط؍دبئی، 9ستمبر :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)مراکش میں جمعے کی دیر شب آنے والے شدید زلزلے نے تباہی مچا دی ہے۔ سینکڑوں لوگ ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں۔ زلزلے کے نتیجے میں اطلس کے پہاڑی علاقوں سے لے کر تاریخی شہر مراکش میں عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔مراکش کی وزارتِ داخلہ نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ زلزلے سے اب تک کم از کم 632 افراد ہلاک جب کہ 329 زخمی ہوئے ہیں۔حکام کے مطابق بیشتر اموات مراکش شہر اور زلزلے کے مرکز کے قریب واقع پانچ صوبوں میں ہوئی ہیں۔وزارتِ داخلہ کے مطابق زلزلے سے الحوز، وورزازیت، مراکش، ازیلال، شیشاواہ اور تارودنتھ صوبوں میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔متاثرہ علاقوں میں سرچ آپریشن جاری ہے جب کہ ریسکیو ورکرز دورداراز علاقوں میں پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم اموات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

قبل ازیں ایک مقامی عہدیدار کا کہنا تھا کہ زیادہ تر اموات پہاڑی علاقوں میں ہوئی ہیں جہاں پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہے۔امریکی جیولوجیکل سروے کا کہنا ہے کہ ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 6.8 تھی اور یہ رات 11 بج کر 11 منٹ پر آیا تھا۔ زلزلے کے وقت کئی سیکنڈ تک زمین ہلتی رہی۔ بعد ازاں 19 منٹ پر آفٹر شاکس بھی ریکارڈ ہوئے۔جمعے کو آنے والے زلزلے کا مرکز الحوز صوبے کے علاقے ایغل کے قریب تھا۔ جیولوجکل سروے کے مطابق زلزلے کے زیر زمین گہرائی 18 کلومیٹر تھی۔زلزلے کے مرکز کے قریب واقع مراکش شہر کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پرانے شہر میں کچھ عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔ مقامی میڈیا کی جانب سے ایسی تصاویر نشر کی جارہی ہیں جس میں مساجد کے منار گرے ہوئے ہیں اور گاڑیوں پر ملبہ پڑا ہے۔

24 فروری 2004 کو رباط سے 400 کلومیٹر شمال مشرق میں الحسیمہ صوبے میں 6.3 کی شدت کا زلزلہ آیا جس میں 628 افراد ہلاک اور شدید مادی نقصان ہوا تھا۔29 فروری 1960 کو ایک زلزلے نے ملک کے مغربی ساحل پر واقع اغادیر شہر کو تباہ کر دیا، جس سے 12,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے اور شہر کی ایک تہائی آبادی متاثر ہوئی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button