بین الاقوامی خبریں

الیکشن میں کامیابی: نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف دو مقدمات ختم کرنے پر غور

محکمہ انصاف پالیسی رہی ہے کہ صدارت کے عہدے پر موجود شخص کے خلاف مقدمات نہیں چلائے جا سکتے

واشنگٹن،7نومبر (ایجنسیز) امریکہ کے محکمہ انصاف کے خصوصی قانونی مشیر جیک اسمتھ جائزہ لے رہے ہیں کہ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف وفاقی عدالتوں میں جاری دو مقدمات میں کارروائی کو کس طرح روکا جائے۔اس معاملے سے واقف ذرائع نے خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کو آگاہ کیا ہے کہ جیک اسمتھ اس بات کا جائزہ اس لیے لے رہے ہیں کیوں کہ محکمہ انصاف کی طویل عرصے سے یہ پالیسی رہی ہے کہ صدارت کے عہدے پر موجود شخص کے خلاف مقدمات نہیں چلائے جا سکتے۔جیک اسمتھ نے گزشتہ برس ڈونلڈ ٹرمپ پر 2020 کے صدارتی الیکشن کے نتائج کو تبدیل کرنے کی سازش اور خفیہ دستاویزات غیر قانونی طور پر اپنے مارا لاگو اسٹیٹ فارم ہاؤس میں رکھنے کے الزامات عائد کیے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اب صدارتی الیکشن میں ڈیموکریٹک امیدوار اور نائب صدر کاملا ہیرس کو شکست دے چکے ہیں جس کا مطلب ہے کہ محکمہ انصاف اب سمجھتا ہے کہ اس کی دہائیوں سے رائج قانونی رائے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کو اب قانونی کارروائی کا سامنا نہیں کرنا ہوگا، جس کا مقصد صدر کو ان کے عہدے پر رہتے ہوئے مجرمانہ الزامات سے بچانا ہے۔نو منتخب صدر کے خلاف دو مقدمات کو روکنے سے متعلق جس شخص معلومات فراہم کیں وہ اپنے نام کے ساتھ اس پر بات کرنے کا مجاز نہیں تھا۔جیک اسمتھ اور محکمہ انصاف ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری میں عہدہ سنبھالنے سے قبل ان کے خلاف مقدمات کی کارروائی روکنے اور ان کا ممکنہ سامنا کرنے سے گریز کی کوشش کریں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں کہہ چکے ہیں کہ وہ صدر منتخب ہونے کے فوری بعد جیک اسمتھ کو ان کے عہدے سے ہٹا دیں گے۔جیک اسمتھ کو دو برس قبل نومبر 2022 میں اٹارنی جنرل نے اسپیشل کونسل کے عہدے پر مقرر کیا تھا۔جیک اسمتھ کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف مقدمات روکنے کا معاملہ سب سے پہلے امریکہ کا نشریاتی ادارہ ’این بی سی‘ سامنے لایا تھا۔جیک اسمتھ نے دو مقدمات میں ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے کیپٹل ہل پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران صدارتی الیکشن کے نتائج کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی جب کہ انہوں نے فلوریڈا میں مارا لاگو اسٹیٹ میں انتہائی خفیہ دستاویزات اپنے پاس رکھی تھیں اور تفتیشی ادارے فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کی ان دستاویزات کی برآمدگی میں رکاوٹیں ڈالی تھیں۔

خفیہ دستاویزات کا کیس جولائی میں تعطل کا شکار ہو گیا تھا کیوں کہ اس مقدمے کی جج ایلین کینن نے جیک اسمتھ کے تقرر کو ہی غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔ بعد ازاں جیک اسمتھ اٹلانٹا کی 11ویں سرکٹ کورٹ میں اس معاملے پر اپیل دائر کی تھی جہاں ان کی اپیل اب بھی زیرِ التوا ہے۔جج ایلین کینن کو ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر 2020 میں جنوبی فلوریڈا کی فیڈرل کورٹ کا جج مقرر کیا تھا۔ٹرمپ کیخلاف واشنگٹن میں الیکشن مداخلت کا کیس روانہ برس چلایا جانا تھا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے اس کیس میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں صدارتی استثنیٰ حاصل ہے جس کے بعد یہ مقدمہ امریکی سپریم کورٹ کے پاس پہنچا۔

رواں برس جولائی میں امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ سابق صدور کو عدالتی کارروائی سے محدود استثنا حاصل ہے۔سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کیے گئے دعوے سے متعلق سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ سابق صدر کے سرکاری حیثیت میں کیے گئے اقدامات کو عدالتی کارروائی سے مکمل استثنا حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اس کا اطلاق ان کے ایسے اقدامات پر نہیں ہوتا جو غیر سرکاری تصور ہوتے ہوں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button