صحت اور سائنس کی دنیا

سن فلاور اور کینولا آئل: فائدہ مند یا نقصان دہ؟

کینسر سے متعلق خدشات

سن فلاور اور کینولا آئل کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے خوردنی تیلوں میں ہوتا ہے۔ یہ تیل بیجوں سے حاصل کیے جاتے ہیں اور کئی صحت مند اجزاء پر مشتمل ہوتے ہیں۔ تاہم گزشتہ کچھ برسوں میں ان کے بارے میں یہ تاثر اُبھرا ہے کہ یہ تیل صحت کے لیے خطرناک ہو سکتے ہیں، خاص طور پر جب بات ہو دل کی بیماری، سوزش (inflammation) یا کینسر جیسے امراض کی۔ اس موضوع پر تحقیق کرنے والے ماہرینِ صحت نے اس تاثر کی تفصیل سے جانچ کی ہے اور موجودہ سائنسی شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان تیلوں کا استعمال نہ صرف محفوظ ہے بلکہ فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے، اگر ان کا استعمال اعتدال میں کیا جائے۔

اومیگا 6 فیٹی ایسڈ: متوازن غذا کا اہم حصہ

سن فلاور اور کینولا آئل میں اومیگا 6 فیٹی ایسڈ خاص طور پر پایا جاتا ہے۔ اومیگا 6 ایک ضروری چکنائی ہے جسے ہمارا جسم خود پیدا نہیں کر سکتا اور اسے خوراک سے حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ماضی میں خیال کیا جاتا تھا کہ زیادہ مقدار میں اومیگا 6 فیٹی ایسڈ لینے سے جسم میں سوزش بڑھ سکتی ہے، جو دل کی بیماری اور کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔ تاہم جدید تحقیقات کے مطابق یہ مفروضہ کافی حد تک غلط ثابت ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اومیگا 6 فیٹی ایسڈ، خاص طور پر لینولیک ایسڈ، دل کی صحت کے لیے مفید ہے اور یہ کولیسٹرول کی سطح کو بہتر کرتا ہے۔ ایک 30 سالہ امریکی مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ جو لوگ زیادہ مقدار میں پودوں کے تیل استعمال کرتے ہیں، ان میں دل کی بیماری، کینسر اور دیگر وجوہات سے اموات کا خطرہ کم پایا گیا۔

اومیگا 3 اور 6 کا تناسب: کیوں ضروری ہے؟

اومیگا 6 کی افراط خود خطرناک نہیں، لیکن مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب خوراک میں اومیگا 3 بہت کم ہو۔ ایک صحت مند غذا میں اومیگا 6 اور اومیگا 3 کا تناسب تقریباً 4:1 ہونا چاہیے، جبکہ موجودہ مغربی غذا میں یہ تناسب 20:1 تک جا چکا ہے۔ اس غیر متوازن تناسب کو متعدد طبی مسائل جیسے کہ آنتوں کی سوزش، ذہنی صحت کی خرابی، اور دیگر دائمی بیماریوں سے جوڑا گیا ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ بیجوں کے تیل کے ساتھ ساتھ اومیگا 3 کے ذرائع جیسے فِش آئل، السی کے بیج، اور اخروٹ بھی خوراک میں شامل کیے جائیں تاکہ دونوں چکنائیوں میں توازن قائم رہے۔

پروسیسنگ اور کیمیکل کا سوال

ایک عام اعتراض یہ ہے کہ بیجوں کے تیل نکالنے کے دوران ان پر کیمیکل استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے ہیکسین۔ تاہم ماہرین کے مطابق زیادہ تر صنعتی عمل کے دوران ان کیمیکلز کو صاف کر دیا جاتا ہے اور حتمی مصنوعات میں ان کے باقیات برائے نام ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ کچھ اقسام کے بیجوں کا تیل "کولڈ پریسڈ” طریقے سے نکالا جاتا ہے جو کسی قسم کے کیمیکل سے پاک ہوتا ہے۔ اگر آپ قدرتی اور کم پروسیس شدہ خوراک کو ترجیح دیتے ہیں تو کولڈ پریسڈ سن فلاور یا کینولا آئل بہتر انتخاب ہو سکتا ہے، البتہ یہ مہنگے ہوتے ہیں۔

کینسر سے متعلق خدشات

2023 میں کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ امکان ظاہر کیا گیا کہ لینولیک ایسڈ (جو کہ بیجوں کے تیل میں ہوتا ہے) خاص قسم کے چھاتی کے کینسر (Triple Negative Breast Cancer) کے خلیات کی نشوونما میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم یہ تحقیق لیبارٹری سطح پر کی گئی تھی، اور اس کے نتائج کو عام انسانی زندگی پر لاگو کرنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس لیے فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بیجوں کے تیل کینسر کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

کون سے بیجوں کے تیل بہترین ہیں؟

تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ کینولا آئل، سویابین آئل اور سن فلاور آئل مختلف حوالوں سے مفید ہیں۔ کینولا آئل نہ صرف دل کی صحت بہتر بناتا ہے بلکہ وزن میں کمی اور انسولین حساسیت میں بھی معاون ہے۔ سویابین آئل کولیسٹرول کو کم کرتا ہے اور اموات کی شرح گھٹاتا ہے۔ سن فلاور آئل میں موجود صحت مند چکنائیاں دل کے لیے مفید ہیں، مگر اسے بھی اعتدال سے استعمال کرنا چاہیے۔

مصنوعی غذا اور بیجوں کے تیل: فرق واضح کریں

بعض لوگ بیجوں کے تیل کو فاسٹ فوڈ، چپس، اور دیگر پراسیسڈ اشیاء سے جوڑتے ہیں جو واقعی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔ تاہم اصل مسئلہ خود بیجوں کے تیل نہیں بلکہ وہ دیگر اجزاء ہیں جیسے شکر، نمک، اور مصنوعی کیمیکل جو ان کھانوں میں شامل ہوتے ہیں۔ بیجوں کے تیل کو مناسب مقدار میں استعمال کرنا ایک صحت مند غذا کا حصہ ہو سکتا ہے۔

بیجوں کے تیل جیسے سن فلاور اور کینولا آئل کے بارے میں سوشل میڈیا پر بہت سی منفی باتیں کی جاتی ہیں، مگر سائنسی شواہد اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ تیل اگر اعتدال میں اور متوازن غذا کے حصے کے طور پر استعمال کیے جائیں تو نہ صرف محفوظ بلکہ مفید بھی ہیں۔ اصل توجہ خوراک کے مجموعی معیار پر ہونی چاہیے، نہ کہ صرف ایک جز پر۔

متعلقہ خبریں

Back to top button