اگر آپ معتدل مقدار میں یا کم سبز چائے پیتے ہیں تو وہ نقصان دہ نہیں
جم مکانٹ نے ادھیڑ عمر میں سبز چائے کے کیپسولز لینے شروع کر دیے تاکہ وہ صحت مند ہو سکیں لیکن بی بی سی کی ٹٹرسٹن کوئین لکھتی ہیں کہ اب ان کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جم کو اپنا جگر تبدیل کرانے کے آپریشن کی ضرورت ہے۔اپنے بیٹے کی گریجویشن کی تقریب کے موقعے پر جم خوش کی بجائے مغموم دکھائی دیے۔ امریکی ریاست ڈیلس کے اس ہال میں وہ اپنی بیوی کیتھلین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھا جب ان کے چہرے کے تاثرات سے پتہ چلا کہ کوئی مسئلہ ہے۔ جب ڈاکٹروں نے تشخیص کی تو پتہ چلا کہ انھیں جگر کا کینسر ہو چکا ہے۔
ڈاکٹروں نے مرض کی تشخیص کرتے ہوئے کینسر کے اسباب میں شراب نوشی کو تو مسترد کر دیا تھا۔ کیونکہ جم عادی شرابی نہیں تھے۔ ڈاکٹروں نے دوائیوں کے اثرات کو بھی مسترد کر دیا کیونکہ وہ کوئی بھی دوا طویل عرصے کے لئے استعمال نہیں کر رہے تھے۔تب ایک جگر کے علاج کے ماہر نے پوچھا کہ کہیں جم کوئی اضافی خوراک تو استعمال نہیں کرتے؟
فائدے کے بجائے نقصان
ادھیڑ عمر کی زندگی میں جو مسائل پیدا ہوتے ہیں ان کے علاج کے لئے جم نے سبز چائے کے کیپسول لینے شروع کر دیے تھے۔ کسی نے انھیں بتایا تھا کہ اس کے امراضِ قلب پر اچھے اثرات ہوتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس قسم کی اضافی دوائیاں لوگوں میں کافی مقبول ہوئی ہیں کیونکہ ان کو آن لائن اشتہارات میں ’اینٹی آکسیڈنٹ‘ اور وزن کم کرنے کی موثر خوراک کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
سبز چائے کے کیپسول لینے کے تقریباً دو ماہ بعد جم نے اپنے آپ کو بیمار محسوس کرنا شروع کر دیا۔ حالانکہ اس سے قبل وہ خاصے صحت مند تھے اور ایک ہفتے میں پانچ سے چھ دنوں میں 30سے 60 منٹ تک دوڑتے تھے۔ بیماری کا بظاہر سبب جگر میں زخم بتایا گیا تھا۔’جب مجھے پتہ چلا تو یہ میرے لئے دھچکہ تھا، اب تک تو میں سمجھتا تھا کہ ایسی سبز چائے کے کیپسولز سے تو صرف فائدہ ہی پہنچتا تھا اور میں نے ان کے نقصان کے بارے میں کبھی نہیں سنا تھا۔‘
سبز چائے کے کیپسول کیا ہیں؟
مغربی ملکوں میں ایسے کیپسول اور گولیاں عام ملتی ہیں جن میں سبز چائے کا نچوڑ شامل ہوتا ہے۔ چونکہ انھیں بنانے کے لئے پانی گرم کرنے اور پیالیوں وغیرہ جا جھنجھٹ نہیں اٹھانا پڑتا، اس لئے لوگ سبز چائے کے فوائد حاصل کرنے کے لئے چائے پینے کی بجائے یہ کیپسول اور گولیاں کھا لیتے ہیں۔سبز چائے کے ان کیپسولز میں ایسا کیا ہے کہ اس کی کچھ خوراکوں کے بعد اس سے کچھ افراد کو نقصان پہنچنے لگا؟
سائنسدانوں کو یقینی طور پر اس بارے میں کچھ علم نہیں۔ سبز چائے تو ہزاروں برسوں سے پی جا رہی ہے اس لئے اس سے تیار کی گئی سپلیمینٹس یا اس طرح کی اضافی خوراکیں یورپ اور امریکی قوانین میں کھانے پینے کی اشیا کے طور دیکھی جاتی ہیں اور ان کا شمار دوائیوں کی فہرست میں نہیں ہوتا۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ سبز چائے سے بنے کیپسولز پر یہ جاننے کے لئے تجربات نہیں ہوتے کہ آیا ان کے کوئی مضر اثرات تو نہیں۔ اس لئے سبز چائے اور ان سے بنے کیپسولز کے بارے میں سائنسی معلومات نامکمل ہیں۔جم مکانٹ کو سبز چائے کے کیپسولز اضافی خوراک کے طور پر کھانے کی وجہ سے جگر کا کینسر ہوا۔ نارتھ کیرولائنا کی ویک فارسٹ یونیورسٹی سکول آف میڈیسن ہسپتال میں جگر کے امراض کے ماہر پروفیسر ہربرٹ بونکوسکی کہتے ہیں کہ اگر آپ معتدل مقدار میں یا کم سبز چائے پیتے ہیں تو اس کا نقصان نہیں ہو گا۔
تاہم کثرتِ استعمال سے جگر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔پروفیسر بونکوسکی نے گذشتہ 20 برس میں ایسے کئی واقعات پر تحقیق کی ہے جن میں سبز چائے کے کثرتِ استعمال کی وجہ سے جگر میں زخم پیدا ہوئے ہیں۔ان کی ریسرچ کا مرکز سبز چائے میں ایک ایسے عنصر پر رہا ہے جو زہریلا ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے جو ایپی گیلوکٹن چِن 3 گیلیٹ یا ای جی سی جی کہلاتا ہے۔ اسی میں کیٹ چن نامی اینٹی آکسیڈنٹ کثرت سے پایا جاتا ہے۔ کسی ایک فرد میں ای جی سی جی سے نقصان پہنچنے کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں جن میں جینیاتی عوامل بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی کہ سبز چائے کو آپ کس طرح استعمال کرتے ہیں۔
ڈاکٹر بونکوسکی کہتے ہیں کہ لوگ عموماً سبز چائے سے بنی دوائیوں کو وزن کم کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں، اس لئے یہ لوگ کھانا نہیں کھاتے۔ ’جانوروں پر ریسرچ کے بعد ہمیں معلوم ہوا ہے کہ فعال جانوروں میں کیٹ چن کی مقدار موٹے جانوروں کی نسبت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے اس کے اثرات میں دوسرے عوامل بھی کار فرما ہوتے ہیں، مثلاً دیگر ادویات، شراب پینے کی عادت، یا دوسری خوراک وغیرہ۔‘
اینٹی آکسیڈنٹ کیا ہیں؟
اینٹی آکسیڈنٹ کا لفظی مطلب ہے آکسیجن کا توڑ کرنے والا۔ اصل میں جسم میں ہر وقت کیمیائی عوامل ہوتے رہتے ہیں جن کے باعث آکسیجن پیدا ہوتی ہے۔ آکسیجن یوں تو جسم کے لئے مفید ہے لیکن اس آکسیجن کی ایک خاص قسم ’فری ریڈیکل‘ کہلاتی ہے، جو خلیوں کے اندر اسی طور توڑ پھوڑ کا باعث بنتی ہے جیسے لوہے کی اشیا کو زنگ لگ جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان فری ریڈیکلز کو ختم کرنے والی اینٹی آکسیڈنٹ مصنوعات کی دنیا بھر میں بہت بڑی مارکیٹ بن چکی ہے جس کا حجم اب ایک کھرب ڈالر بتایا جارہا ہے۔
سبز چائے کے اجزا سے بنائے گئے کیپسولز ایک عام نظریہ یہ بھی ہے کہ فری ریڈیکلز کی اسی توڑ پھوڑ کے نتیجے میں انسان کے اندر بڑھاپے کے آثار پیدا ہوتے ہیں۔سبز چائے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے اندر اینٹی آکسیڈنٹ اجزا موجود ہیں جو ان فری ریڈیکلز کا خاتمہ کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
اعتدال کی ضرورت
اس وقت دنیا بھر میں کروڑوں لوگ سبز چائے پی رہے ہیں، لیکن اب تک ایسے 80 واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں جن میں جگر کے کینسر کا سبب سبز چائے سے بنی اضافی خوراکیں ہیں۔ ان واقعات میں کچھ کو جگر بھی تبدیل کرانا پڑا ہے۔ اس قسم کے واقعات میں 17 برس سے لے کر 81 برس کے لوگ بھی بیمار ہوئے۔یورپی یونین کی فوڈ سیفٹی اتھارٹی نے اپنی تحقیق میں کہا ہے کہ سبز چائے میں موجود کیٹ چن عموماً انسانی جسم کے لئے محفوظ ہوتی ہیں لیکن اگر اس کی مقدار 800 ملی گرام فی یوم سے زیادہ ہو جائے تو اس سے صحت کیلئے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔



