سپریم کورٹ نے آدھار کو بہار میں 12ویں دستاویز کے طور پر ماننے کا حکم دیا
جسٹس سوریا کانت کی وضاحت: آدھار شناخت کا ثبوت ہے، شہریت کا نہیں
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے بہار میں Special Intensive Revision (SIR) کے دوران ووٹر لسٹ کی نظرثانی کے لیے بڑا حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ آدھار کارڈ کو ووٹر کی شناخت کے مقصد سے "12ویں دستاویز” کے طور پر مانا جائے گا۔
الیکشن کمیشن کو ہدایت دی گئی ہے کہ آدھار کارڈ کو ووٹر لسٹ میں ووٹروں کو شامل یا خارج کرنے کے عمل میں ایک اضافی شناختی ثبوت کے طور پر قبول کیا جائے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ آدھار کو شہریت کا ثبوت نہیں مانا جائے گا۔
جسٹس سوریا کانت کی وضاحت: آدھار شناخت کا ثبوت ہے، شہریت کا نہیں
سماعت کے دوران جسٹس سوریا کانت نے کہا:”ہم یہ واضح کر رہے ہیں کہ آدھار صرف رہائش اور شناخت کا ثبوت ہے، شہریت کے تعین کے لیے نہیں۔ کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ غیر قانونی تارکین وطن کو ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے۔”
عدالت نے مزید کہا کہ آدھار کو صرف دیگر 11 درست دستاویزات کے برابر مانا جائے اور اس کی تصدیق الیکشن حکام کر سکتے ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق بہار میں 7.24 کروڑ میں سے 99.6 فیصد شہریوں نے پہلے ہی 11 تسلیم شدہ دستاویزات میں سے کوئی ایک جمع کرا دی ہے۔
پچھلے حکم میں 65 لاکھ ووٹروں کو آدھار دینے کی اجازت دی گئی تھی اور کسی درخواست گزار نے یہ شکایت نہیں کی کہ بڑی تعداد میں شہری غلط طریقے سے ووٹر لسٹ سے خارج کر دیے گئے ہیں۔اس معاملے پر سپریم کورٹ کی اگلی سماعت پیر 15 ستمبر کو ہوگی، جس میں مزید ہدایات دیے جانے کا امکان ہے۔



