قومی خبریں

طلاق کے دہانے پر کھڑے جوڑے کو سپریم کورٹ کا دل چھو لینے والا مشورہ: ڈنر ڈیٹ پر جائیں، ہم انتظام کریں گے

بچے کی تحویل کے حوالے سے قانونی کشمکش بھی جاری

نئی دہلی 26/مئی (اردودنیا.اِن/ایجنسیز): سپریم کورٹ آف انڈیا نے طلاق کے عمل سے گزرنے والے ایک جوڑے کو غیرمعمولی اور دل کو چھو لینے والا مشورہ دیا، جس میں عدالت نے کہا کہ فریقین اپنے اختلافات کمرہ عدالت کے باہر حل کرنے کی کوشش کریں اور ایک ساتھ ڈنر پر جائیں۔ عدالت نے زور دیا کہ دونوں کے درمیان جاری تنازعہ ان کے تین سالہ بیٹے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی انا کو پسِ پشت ڈال کر بچے کے مستقبل کے لیے مثبت قدم اٹھائیں۔

یہ معاملہ جسٹس بی وی ناگرتھنا اور جسٹس ستیش چندر شرما پر مشتمل دو رکنی بنچ کے سامنے پیش ہوا، جہاں خاتون فریق — جو ایک فیشن انٹرپرینیور ہیں — نے اپنے بیٹے کو غیر ملکی سفر پر لے جانے کی اجازت طلب کی تھی۔ واضح رہے کہ جوڑے کے درمیان نہ صرف طلاق کا مقدمہ زیر سماعت ہے بلکہ بچے کی تحویل کے حوالے سے قانونی کشمکش بھی جاری ہے۔

عدالت نے کہا کہ تین سال کے بچے کی ذہنی نشوونما ایسے ماحول میں متاثر ہو سکتی ہے جہاں والدین کے درمیان تلخی ہو۔ بنچ نے جوڑے کو مشورہ دیا کہ وہ "ماضی کو کڑوی گولی کی طرح نگل لیں” اور مستقبل پر توجہ مرکوز کریں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ "ہماری کینٹین شاید اتنی بہتر نہ ہو، مگر ہم آپ کو ایک علیحدہ ڈرائنگ روم فراہم کریں گے۔ آج رات کے کھانے پر ملیں، کافی پر بہت بات ہو سکتی ہے۔”

بنچ نے دونوں فریقین کو ہدایت دی کہ وہ باہمی گفتگو کریں اور عدالت میں دوبارہ پیش ہوں۔ عدالت نے امید ظاہر کی کہ یہ ملاقات دونوں کے تعلقات میں بہتری لا سکتی ہے اور بالخصوص بچے کے مفاد میں مثبت نتائج دے سکتی ہے۔ جوڑے کو آرام دہ ماحول فراہم کرنے کی کوشش میں عدالت نے نہ صرف انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کیا بلکہ سماجی ذمہ داری کا احساس بھی دلایا۔

سپریم کورٹ کا یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ اعلیٰ عدلیہ محض قانونی فیصلوں تک محدود نہیں بلکہ انسانی رشتوں اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے رہنمائی فراہم کرنے کا کردار بھی ادا کر رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button