آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کے خلاف عرضی: سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ جانے کا مشورہ دیا
“ہر معاملہ سپریم کورٹ ہی کیوں سنے؟ ہائی کورٹ بھی قابل ہے” — چیف جسٹس
نئی دہلی 16 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی متنازع تقریر اور سوشل میڈیا پوسٹ کے خلاف دائر عرضی پر سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران عرضی گزار کو متعلقہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ہائی کورٹ میں بھی قابل جج اور وکلا موجود ہیں، اس لیے ہر معاملہ براہ راست سپریم کورٹ لانا ضروری نہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے ریمارکس دیے کہ کیا ملک کے ہر واقعہ کی سماعت سپریم کورٹ ہی کرے، اور یہ رجحان درست نہیں کہ انتخابی موسم میں عدالت عظمیٰ کو سیاسی میدان جنگ بنا دیا جائے۔
سماعت کے دوران عرضی گزار کی جانب سے پیش ہوئے وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے مؤقف اختیار کیا کہ معاملہ ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانے سے متعلق ہے اور قومی نوعیت کا ہے، اس لیے آرٹیکل 32 کے تحت سپریم کورٹ کو براہ راست مداخلت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے مقدمات یہاں قابل سماعت نہیں تو آرٹیکل 32 کی حدود واضح کی جانی چاہئیں، ساتھ ہی انہوں نے خصوصی تفتیشی ٹیم کی تشکیل کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ ایک اعلیٰ عہدے پر فائز شخص کے خلاف کارروائی کا طریقہ کیا ہوگا۔
چیف جسٹس نے جواب میں کہا کہ عدالت سیاسی جماعتوں کو تحمل اور آئینی اخلاقیات کی پابندی کی نصیحت کر سکتی ہے، مگر ہر سیاسی تنازع کو سپریم کورٹ لانا مناسب نہیں۔ سنگھوی نے اپنی دلیل میں بلقیس بانو اور ونود دُوا کے معاملات کی مثال دی، جس پر چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ وہ ایسے کیس تھے جہاں تادیبی کارروائی پہلے ہی ہو چکی تھی، جبکہ موجودہ عرضی میں کارروائی شروع کرانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ عدالت نے بار بار استفسار کیا کہ ہائی کورٹ سے رجوع کیے بغیر سیدھا سپریم کورٹ آنے کی معقول وجہ کیا ہے۔



