عدالتی سماعت ضروری نہیں، سپریم کورٹ نے اجمیر شریف درگاہ پر چادر کے خلاف عرضی رد کردی
اجمیر شریف درگاہ پر چادر بھیجنے کی روایت برسوں سے جاری ہے
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے حکومتِ ہند کی جانب سے اجمیر شریف درگاہ پر چادر بھیجنے کی روایت کو چیلنج کرنے والی درخواست خارج کر دی۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ ایسا معاملہ نہیں جس پر عدالتی سماعت کی ضرورت ہو۔ یہ ریمارکس سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے دیے۔
درخواست وشو ویدک سناتن سنگھ کے سربراہ جتیندر سنگھ بیسن اور ہندو سینا کے صدر وشنو گپتا کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں کا مؤقف تھا کہ آئینی عہدوں پر فائز افراد کی طرف سے درگاہ پر چادر پیش کرنا ریاستی غیر جانبداری کے اصول کے منافی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتی کے عرس کے موقع پر چادر بھیجنے سے روکنے کی استدعا کی تھی۔
چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیہ باغچی پر مشتمل بنچ نے سماعت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت کے طے کرنے کا مسئلہ نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ چونکہ اس سال چادر پہلے ہی پیش کی جا چکی ہے، اس لیے درخواست زیرِ بحث نہیں رہتی۔
سماعت کے دوران عدالت نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ اجمیر شریف درگاہ سے متعلق ایک مقدمہ، جس میں درگاہ کو ہندو مندر قرار دینے کا دعویٰ کیا گیا ہے، اجمیر کی سول عدالت میں زیر التوا ہے۔ بنچ نے واضح کیا کہ موجودہ حکم کا اس زیرِ التوا مقدمے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور فریقین نچلی عدالت میں اپنی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم کی جانب سے اجمیر شریف درگاہ پر چادر بھیجنے کی روایت برسوں سے جاری ہے اور موجودہ حکومت بھی اسی روایت پر عمل پیرا ہے۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے حکومت کی طرف سے چادر بھیجنے سے منصفانہ سماعت متاثر ہو سکتی ہے، تاہم سپریم کورٹ نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔



