قومی خبریں

سپریم کورٹ نے آوارہ کتوں کے معاملے میں ریاستوں کو آڑے ہاتھوں لیا، چیف سکریٹریز کی ذاتی حاضری لازمی قرار

یہ افسوسناک ہے کہ عدالت ان مسائل پر وقت ضائع کر رہی ہے

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے جمعہ (31 اکتوبر 2025) کو مغربی بنگال اور تلنگانہ کے علاوہ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سکریٹریز کی آوارہ کتوں کے معاملے میں 3 نومبر کو ورچوئل حاضری کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے احکامات کا احترام نہیں کیا جا رہا۔

عدالت نے پہلے ہی ہدایت دی تھی کہ تمام ریاستوں کے چیف سکریٹریز 3 نومبر کو حاضر ہو کر بتائیں کہ 22 اگست کے حکم کے باوجود تعمیل حلف نامہ (Compliance Affidavit) کیوں داخل نہیں کیا گیا۔

جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بنگال، تلنگانہ اور دہلی میونسپل کارپوریشن (MCD) کے علاوہ کسی بھی ریاست نے 27 اکتوبر تک تعمیل حلف نامہ داخل نہیں کیا تھا۔

سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے درخواست کی کہ چیف سکریٹریز کو 3 نومبر کو عملی طور پر (ورچوئلی) پیش ہونے کی اجازت دی جائے، مگر جسٹس وکرم ناتھ نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔

انہوں نے کہا،"یہ افسوسناک ہے کہ عدالت ان مسائل پر وقت ضائع کر رہی ہے جنہیں ریاستی حکومتوں اور میونسپل اداروں کو برسوں پہلے حل کر لینا چاہیے تھا۔”

جسٹس ناتھ نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ نے اینیمل برتھ کنٹرول (ABC) رولز بنائے تھے، لیکن ان پر کوئی عمل نہیں ہوا۔ عدالت نے سخت لہجے میں کہا،”جب ہم ان سے حلف نامہ مانگتے ہیں تو وہ خاموش رہتے ہیں، عدالت کے حکم کا کوئی احترام نہیں۔ تو ٹھیک ہے، انہیں آنے دیں۔”

بینچ نے واضح کیا کہ تمام چیف سکریٹریز کو 3 نومبر کو ذاتی طور پر پیش ہونا ہوگا اور وضاحت دینی ہوگی کہ تعمیل حلف نامے داخل کیوں نہیں کیے گئے۔

ایس جی تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ کچھ ریاستوں نے اب تعمیل حلف نامہ داخل کر دیا ہے، تاہم عدالت نے ریمارک دیا کہ 27 اکتوبر تک صرف مغربی بنگال، تلنگانہ اور ایم سی ڈی نے ایسا کیا تھا۔عدالت نے مزید کہا کہ ملک میں آوارہ کتوں کے بڑھتے واقعات سے بین الاقوامی سطح پر بدنامی ہو رہی ہے۔

22 اگست کو عدالت نے حکم دیا تھا کہ این سی آر سے باہر تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو بھی اس کیس میں فریق بنایا جائے اور اینیمل برتھ کنٹرول قوانین پر عمل درآمد کی مکمل رپورٹ جمع کرائی جائے، جس میں کتے پکڑنے والے، ڈاکٹرز، کنیلز، اور مخصوص گاڑیوں کی تفصیلات شامل ہوں۔

سپریم کورٹ اس کیس کی سماعت ازخود نوٹس کے طور پر کر رہی ہے جو 28 جولائی کو دہلی میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات اور بچوں میں ریبیز کی خبریں سامنے آنے کے بعد شروع ہوا تھا۔

30 اکتوبر کو عدالت نے بہار حکومت کی اس درخواست کو بھی مسترد کر دیا جس میں چیف سکریٹری کو اسمبلی انتخابات کے سبب حاضری سے استثنیٰ دینے کی اپیل کی گئی تھی۔ بنچ نے کہا،

"الیکشن کمیشن اس کا خیال رکھے گا، چیف سکریٹری کو آنے دیں۔”خیال رہے کہ بہار اسمبلی انتخابات 6 اور 11 نومبر کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 14 نومبر کو ہوگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button