قومی خبریں

طلبہ کی خودکشیوں پر سپریم کورٹ کا نوٹس، تعلیمی اداروں میں کونسلنگ اور ذہنی صحت کے لیے 15 نکاتی ہدایات جاری

نیٹ طالبہ کی موت پر سی بی آئی تحقیقات، سپریم کورٹ کے سخت احکامات

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ آف انڈیا نے طلبہ کی بڑھتی ہوئی خودکشیوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملک بھر کے تمام تعلیمی اداروں، کوچنگ سینٹروں اور ہاسٹلز کے لیے 15 نکاتی رہنما اصول جاری کیے ہیں۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ہر اُس ادارے میں جہاں سو یا اس سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہیں، وہاں ایک مستند ماہر نفسیات، کونسلر یا سماجی کارکن کا ہونا لازمی ہے تاکہ طلبہ کو وقتاً فوقتاً کونسلنگ مہیا کی جا سکے۔

عدالت نے کہا کہ یہ رہنما اصول نہ صرف سرکاری بلکہ نجی اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، کوچنگ سینٹرز اور رہائشی تعلیمی اداروں پر بھی لاگو ہوں گے۔ سپریم کورٹ نے تمام ریاستی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ان ہدایات پر فوری عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ مرکزی حکومت کو 90 دن کے اندر اس پر عمل درآمد کی رپورٹ داخل کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔

یہ احکامات اُس وقت جاری کیے گئے جب سپریم کورٹ نے وشاکھاپٹنم میں نیٹ کوچنگ کے لیے آئی ہوئی مغربی بنگال کی ایک طالبہ کی مشکوک موت کے مقدمے میں سی بی آئی تحقیقات کا حکم سنایا۔

یہ افسوسناک واقعہ 14 جولائی 2023 کو پیش آیا جب ایک 17 سالہ طالبہ وشاکھاپٹنم کے ایک کوچنگ سینٹر کے ہاسٹل کی تیسری منزل سے گر کر شدید زخمی ہو گئی۔ بعد ازاں وہ اسپتال میں دم توڑ گئی۔ اس واقعے کی ابتدائی تفتیش وشاکھاپٹنم پولیس نے کی، لیکن والد کی درخواست پر سپریم کورٹ نے معاملے کو سی بی آئی کے سپرد کر دیا۔

طالبہ کے والد نے کولکتہ میں بھی مقدمہ درج کرایا تھا، جس کے نتیجے میں آندھرا پردیش اور مغربی بنگال دونوں ریاستوں میں الگ الگ ایف آئی آر درج ہوئیں۔ ہائی کورٹ نے سی بی آئی انکوائری کے اختیار کو مسترد کر دیا تھا، جس فیصلے کو سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ کے رہنما اصول

  • تمام تعلیمی ادارے ایک متحدہ اور مؤثر ذہنی صحت کی پالیسی اپنائیں۔ اُمید رہنما اصول، منو درپن پروگرام، اور قومی خودکشی روک تھام حکمت عملی سے رہنمائی لیتے ہوئے طلبہ کی ذہنی بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

  • ایسے تمام ادارے جہاں 100 یا اس سے زیادہ طلبہ زیر تعلیم ہوں، کم از کم ایک مستند ماہر نفسیات، کونسلر یا سماجی کارکن کا تقرر لازم کریں۔ جن اداروں میں طلبہ کی تعداد کم ہو، وہاں بیرونی ماہرین کے ذریعے کونسلنگ فراہم کی جائے۔

  • امتحانی دباؤ اور دیگر ذہنی دباؤ سے طلبہ کو محفوظ رکھنے کے لیے ماہر کونسلر کو خصوصی ذمہ داریاں سونپی جائیں۔

  • کوچنگ سینٹروں اور دیگر اداروں میں طلبہ کو کارکردگی کی بنیاد پر بیچوں میں تقسیم کرنا، ان کی توہین یا شرمندگی کا باعث بننے والے اقدامات، یا اُن پر غیر فطری تعلیمی اہداف مسلط کرنا ممنوع قرار دیا جائے۔

  • ہاسٹلس، کلاس رومس، اور عام مقامات پر ذہنی صحت سے متعلق سہولیات، مقامی اسپتالوں سے روابط، اور خودکشی سے بچاؤ کی ہیلپ لائن نمبرز نمایاں طور پر آویزاں کیے جائیں۔

  • تمام تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو سال میں کم از کم دو مرتبہ "ابتدائی نفسیاتی امداد”، خودکشی کے خطرے کی علامات پہچاننے، اور ہنگامی ردعمل کی تربیت دی جائے۔

  • سماجی و اقتصادی طور پر پسماندہ، معذور، یتیم یا احساسِ کمتری کے شکار طلبہ کے ساتھ خصوصی ہمدردانہ رویہ اپنایا جائے اور عملے کو اس ضمن میں تربیت دی جائے۔

  • ریگنگ، جنسی ہراسانی، یا کسی بھی قسم کی زیادتی پر فوری کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط اندرونی نظام قائم کیا جائے۔ اگر ایسے عوامل سے خودکشی واقع ہو تو انتظامیہ ذمہ دار قرار پائے۔

  • والدین و سرپرستوں کو اس حوالے سے باخبر کیا جائے کہ وہ بچوں پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالیں۔ اس کے لیے شعور بیداری کے پروگرامز منعقد کیے جائیں۔

  • طلبہ کو فراہم کی گئی ذہنی صحت کی خدمات پر ایک خفیہ رپورٹ تیار کی جائے اور اسے مرکز و ریاست کی وزارت تعلیم، یو جی سی، اے آئی سی ٹی ای اور سی بی ایس ای کو بھیجا جائے۔

  • نصاب کے ساتھ ساتھ کھیل، فنون لطیفہ، اور شخصیت سازی کے سرگرم پروگرامز کو فروغ دیا جائے۔

  • طلبہ اور اُن کے والدین کو کیریئر کونسلنگ فراہم کی جائے تاکہ وہ اپنی صلاحیت و دلچسپی کے مطابق پیشہ وارانہ راستہ اختیار کر سکیں۔

  • گروکل اسکولوں، ہاسٹلز اور تربیتی اداروں میں ہراسانی، جسمانی تشدد اور منشیات سے پاک محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔ ذمہ داران اس کی مکمل نگرانی کریں۔

  • طلبہ کو خودکشی سے باز رکھنے کے لیے سیلنگ فین، چھتوں اور بالکونیوں جیسے مقامات پر تکنیکی تبدیلیاں کی جائیں تاکہ اچانک خودکشی کی کوشش روکی جا سکے۔

  • ان شہروں جیسے کوٹا، جے پور، حیدرآباد، دہلی، ممبئی وغیرہ جہاں مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے لیے طلبہ بڑی تعداد میں آتے ہیں اور خودکشی کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں، وہاں خصوصی احتیاطی اقدامات کیے جائیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button