تلنگانہ کی خبریں

فون ٹیاپنگ اسکام ، سابق وزیر ہریش راؤ کو سپریم کورٹ سے راحت

تلنگانہ حکومت کی درخواست مسترد، ہائی کورٹ کے فیصلہ میں مداخلت سے انکار

حیدرآباد 5/جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)فون ٹیپنگ کیس میں تلنگانہ کے سابق وزیر اور سینئر سیاسی رہنما ہریش راؤ کو قانونی راحت حاصل ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے تلنگانہ حکومت کی وہ درخواست خارج کر دی ہے جس میں ہریش راؤ سے پوچھ گچھ کی اجازت مانگی گئی تھی۔ عدالتِ عظمیٰ نے اس معاملے میں تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

تلنگانہ حکومت فون ٹیپنگ معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں ہریش راؤ کو طلب کرنا چاہتی تھی، تاہم ہائی کورٹ نے پہلے ہی اس پر روک عائد کر دی تھی۔ اسی فیصلے کے خلاف ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور درخواست دائر کرتے ہوئے سابق وزیر سے تفتیش کی اجازت طلب کی۔

پیر کے روز سماعت کے دوران عدالت نے ریاستی حکومت کے دلائل کو غیر مؤثر قرار دیا۔ عدالت نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہائی کورٹ کے حکم میں مداخلت کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہے۔ اس کے بعد تلنگانہ حکومت کی درخواست کو مسترد کر دیا گیا، جسے حکومت کے لیے ایک بڑا قانونی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فون ٹیپنگ معاملہ تلنگانہ کی سیاست میں شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ سابق حکومت کے دور سے جڑے اس معاملے کی تحقیقات موجودہ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل رہی ہیں، تاہم عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے نے حکومتی مؤقف کو کمزور کر دیا ہے۔

دسمبر 2024 میں سدی پیٹ سے تعلق رکھنے والے ایک صنعت کار جی چکردھر گوڑ نے بی آر ایس دور حکومت میں اس وقت کے وزیر ہریش راؤ کی ہدایت پر ان کا ٹیلیفون ٹیاپ کئے جانے کی شکایت کی۔ انہوں نے پولیس کی جانب سے ذہنی اذیت دیئے جانے اور فون ٹیاپنگ کے خلاف پنجہ گٹہ پولیس اسٹیشن میں شکایت کی۔ پولیس نے ہریش راؤ کے خلاف ایف آئی آر درج کیا تھا ۔

ہریش راؤ نے ایف آئی آر کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور 20 مارچ 2025 کو ہائی کورٹ نے ایف آئی آر کو یہ کہتے ہوئے کالعدم کردیا کہ ہریش راؤ کے خلاف فون ٹیاپنگ معاملہ میں ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔ تلنگانہ حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ۔ واضح رہے کہ تلنگانہ پولیس فون ٹیاپنگ معاملہ میں ہریش راؤ کے نام کو شامل کرنے کی مساعی کر رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ خصوصی تحقیقاتی ٹیم جلد ہی ہریش راؤ اور دوسروں کو نوٹس جاری کرے گی۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس فیصلے سے یہ پیغام ملتا ہے کہ بغیر ٹھوس شواہد کے کسی فرد کو محض شبہ یا سیاسی بنیاد پر تفتیش کے دائرے میں لانا درست نہیں۔ ہریش راؤ کے لیے یہ فیصلہ نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے بعد وہ براہِ راست پوچھ گچھ کے فوری خطرے سے محفوظ ہو گئے ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد تفتیشی اداروں کے لیے آگے بڑھنا آسان نہیں ہوگا۔ اگرچہ تلنگانہ حکومت آئندہ قانونی امکانات پر غور کر سکتی ہے، لیکن سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ اس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button