سپریم کورٹ ‘ادے پور فائلز’ کی سماعت کے لیے تیار، ہائی کورٹ نے ریلیز پر پابندی لگا دی تھی۔
ادے پور فائلز پر عارضی پابندی، سپریم کورٹ میں فیصلہ کن سماعت کی تیاری
نئی دہلی، 14 جولائی۔:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے پیر کو ادے پور فائلز فلم کی ریلیز پر دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے لیے رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ فلمساز کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں یہ اپیل دائر کی گئی ہے کہ دہلی ہائی کورٹ کے اس حکم کو کالعدم قرار دیا جائے جس میں فلم کی ریلیز پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔
پروڈیوسر کی جانب سے سینئر وکیل گورو بھاٹیہ اور وکیل پلکت اگروال نے عدالت میں کہا کہ ہماری درخواست ہے کہ فلم کی ریلیز کی اجازت دی جائے کیونکہ ہم آرٹیکل 136 کے تحت ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کر رہے ہیں۔ عدالت نے زبانی طور پر کہا کہ معاملہ 2 سے 3 دن میں درج کر لیا جائے گا۔
ادے پور فائلز فلم راجستھان کے ادے پور شہر میں کنہیا لال ٹیلر کے قتل پر مبنی ہے۔ کنہیا لال 28 جون 2022 کو محمد ریاض عطاری اور گوس محمد کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ ان قاتلوں نے قتل کی ویڈیو بھی وائرل کی تھی۔ فلم کی ریلیز 11 جولائی کو طے تھی لیکن دہلی ہائی کورٹ نے 10 جولائی کو اس پر عارضی پابندی عائد کر دی۔
ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت کو سینماٹوگراف ایکٹ کی دفعہ 6 کے تحت فلم کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔ یہ فیصلہ جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی سمیت تین درخواست گزاروں کی عرضیوں پر دیا گیا۔ پروڈیوسر امیت جانی کا کہنا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، لیکن اظہار رائے کی آزادی کے تحت فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت چاہتے ہیں۔



