عباس انصاری کی درخواست پر سپریم کورٹ کا یوپی حکومت کو نوٹس
عدالت میں خود سپردگی نہ کرنے کی وجہ سے 25 اگست کو ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے مفرور قرار دے دیا تھا
نئی دہلی ، 22جنوری :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) مئو صدر سے سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے ایم ایل اے اور مختار انصاری کے بیٹے عباس انصاری کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ سپریم کورٹ نے آرمس ایکٹ معاملے میں عباس انصاری کی گرفتاری پر اگلے حکم تک روک لگاتے ہوئے اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس جسٹس بی آر گوئی، جسٹس سنجے کرول اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ نے عباس انصاری کے وکیل کپل سبل کے دلائل سننے کے بعد جاری کیا ہے۔عباس انصاری جیل میں بند سابق ممبر اسمبلی مختار انصاری کے بیٹے ہیں، انہوں نے مئو صدر کی سیٹ سے سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کے ٹکٹ پر 2022 کا اسمبلی الیکشن لڑا تھا جس میں انہیں کامیابی حاصل ہوئی تھی۔
اترپردیش میں مجرموں و مافیاؤں کے خلاف سخت کارروائی کے نام پر مختار انصاری اور ان کے اہلِ خانہ کیخلاف یوگی آدتیہ ناتھ حکومت برسرِ پیکار ہے، جس کی وجہ سے گزشتہ کئی مہینوں سے عباس انصاری مفرور چل رہے ہیں۔
عدالت میں خود سپردگی نہ کرنے کی وجہ سے 25 اگست کو ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے انہیں مفرور قرار دے دیا تھا۔ ان پر آرمس ایکٹ اور پریونشن آف منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) سمیت کئی دیگر معاملات میں مقدمات درج ہیں۔واضح رہے کہ عباس انصاری اسلحہ لائسنس کے غلط استعمال سے متعلق ایک معاملے میں مطلوب ہیں۔ ان کی تلاش میں لکھنؤ پولیس نے اترپردیش میں الگ الگ ٹھکانوں پر چھاپے ماری کرنے کے ساتھ ساتھ پنجاب اور راجستھان میں بھی کارروائی کی تھی۔ عدالت نے 14 جولائی کو عباس انصاری کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیا تھا۔ ان پر لکھنؤ پولیس کو بغیر بتائے اسلحہ لائسنس نئی دہلی ٹرانسفر کرنے کا الزام ہے۔ اسی معاملے میں عدالت نے ان کیخلاف وارنٹ جاری کیا تھا۔ ان پر ایک لائسنس کا استعمال کرتے ہوئے کئی اسلحہ لینے کا بھی الزام ہے۔ حالانکہ معاملے کی سماعت کے دوران عباس انصاری کی جانب سے پیش سینئر وکیل کپل سبل نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد بتایا ہے۔



