جب پولیس یونیفارم پہنتی ہے تو ذات، مذہب یا ذاتی تعصبات کو چھوڑنا لازمی: سپریم کورٹ
مہاراشٹرا فسادات کیس میں ہندو مسلم افسران کی ایس آئی ٹی تشکیل
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ پولیس افسران جب اپنی یونیفارم پہنتے ہیں تو انہیں ذاتی، مذہبی یا ذات پات سے جڑے تعصبات کو بالکل ترک کرنا چاہیے۔ عدالت نے مہاراشٹر کے اکولا میں 2023 کے فرقہ وارانہ فسادات کے دوران پیش آنے والے مبینہ قتل کیس کی تحقیقات کے لیے ہندو اور مسلم افسران پر مشتمل خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دینے کا حکم دیا۔
عدالت نے پولیس کی جانب سے فرقہ وارانہ فسادات کے ایک عینی شاہد کے بیان کی غیر ضروری تاخیر سے تفتیش نہ کرنے پر سخت برہمی بھی ظاہر کی۔ جسٹس سنجے کمار اور ستیش چندر شرما کی بنچ نے ریاستی محکمہ داخلہ کے سکریٹری کو ہدایت دی کہ وہ اس خصوصی ٹیم کے ذریعے ایف آئی آر درج کروائیں اور کیس کی دوبارہ تحقیقات کریں۔
سپریم کورٹ نے کہا، "پولیس فورس کے ہر رکن کو اپنی وردی کے فرائض کو خلوص اور لگن کے ساتھ انجام دینا چاہیے۔ مذہبی، نسلی یا ذات پات کے کسی بھی تعصب کو اپنے فرائض پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہیے۔ بدقسمتی سے اس کیس میں ایسا نہیں ہوا۔”
یہ واقعہ مئی 2023 میں اکولا کے پرانے شہر کے علاقے میں پیش آیا، جب سوشل میڈیا پر پیغمبر اسلام کے بارے میں ایک پوسٹ وائرل ہوئی۔ جھڑپوں میں ولاس مہادیو راؤ گائیکواڑ ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ عرضی گزار محمد افضل نے بتایا کہ حملہ آوروں نے ان کی گاڑی اور سر پر تشدد کیا، اور یہ سب اس لیے ہوا کیونکہ مقتول مسلمان نہیں تھا۔
پولیس نے اپنی جانب سے موقف دیا کہ افضل کے عینی شاہد ہونے کا دعویٰ تحقیقات کے دوران ثابت نہیں ہوا، اور اسپتال میں افسر کی آمد کے وقت وہ بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے محکمہ پولیس پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اپنے فرائض میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی جائے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ محکمہ پولیس کے تمام ملازمین کو حساس اور قانون سے متعلق تربیت دی جائے تاکہ وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں مکمل شفافیت اور دیانت داری دکھائیں۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم اپنی رپورٹ تین ماہ کے اندر عدالت میں پیش کرے گی۔



