نئی دہلی،28؍ جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے جمعہ کو مہاراشٹرا قانون ساز اسمبلی سے بی جے پی کے 12 ایم ایل اے کی ایک سال کے لیے معطلی کو منسوخ کردیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ معطلی غیر آئینی اور من مانی ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ یہ معطلی صرف 21 جولائی میں جاری مانسون اجلاس کے لیے کی جا سکتی تھی۔
نیز بی جے پی نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔اس سے قبل سپریم کورٹ نے 19 جنوری کو میراتھن سماعت کے بعد بی جے پی ایم ایل اے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ سپریم کورٹ کو یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا مہاراشٹرا قانون ساز اسمبلی کی طرف سے ایم ایل اے کی ایک سال کی معطلی جائز تھی یا نہیں۔
سپریم کورٹ نے آج اپنا فیصلہ سنایا۔بی جے پی ایم ایل اے کی معطلی کو منسوخ کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پارٹی صدر جے پی نڈا نے کہا کہ ہم عوام کے مقصد کے لیے لڑتے رہیں گے۔ انہوں نے کہاکہ میں مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کے مانسون اجلاس میں او بی سی طبقے کے حقوق کے لیے لڑنے والے مہاراشٹر بی جے پی کے 12 ایم ایل ایز کی معطلی کو منسوخ کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا تہہ دل سے خیر مقدم کرتا ہوں۔
انہوں نے ٹویٹ کیا کہ معزز سپریم کورٹ کی طرف سے آئین اور جمہوریت کے خلاف مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے کاموں کو روکنا سچائی کی جیت ہے۔ میں تمام 12 ایم ایل اے کو مبارکباد دیتا ہوں۔
بی جے پی، مہاراشٹر حکومت کی غیر آئینی سرگرمیوں کے خلاف مسلسل آواز اٹھاتی رہے گی۔ عدالت نے فریقین کو ایک ہفتے میں تحریری دلائل دینے کوکہا۔ تاہم سماعت کے دوران عدالت نے مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کی ایک سال کی معطلی پر سخت تبصرہ کیا۔
سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ جمہوریت کے لیے خطرہ ہے اور غیر معقول ہے۔



