سرورققومی خبریں

شادی سے انکار بذاتِ خود خودکشی پر اکسانے کا جرم نہیں:سپریم کورٹ

شادی سے انکار کو محض اس بنیاد پر خودکشی پر اکسانا نہیں کہا جا سکتا۔

نئی دہلی، 8 اکتوبر (اردودنیانیوز/ایجنسیز): سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ کسی رضامندانہ تعلق کے دوران یا اس کے بعد شادی سے انکار کو محض اس بنیاد پر خودکشی پر اکسانے کا جرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے اس معاملے میں چھ افراد کے خلاف جاری فوجداری کارروائی ختم کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی قابلِ اعتماد مواد موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ ملزمان نے خاتون کو خودکشی کے لیے اکسایا تھا۔

جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے ونےد چندرن پر مشتمل بنچ نے تلنگانہ کے کشائی گوڑہ میں واقع II ایڈیشنل سینئر سول جج-کم-ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں زیر التوا کارروائی کو منسوخ کر دیا۔ معاملہ ایک ایسی خاتون کی خودکشی سے متعلق تھا جو مبینہ طور پر پہلے ملزم کے ساتھ تقریباً تین ماہ سے رہ رہی تھی اور دونوں کے درمیان تعلق رضامندانہ تھا۔

مقدمے کے مطابق خاتون کے اہل خانہ کا الزام تھا کہ پہلے ملزم نے اس سے شادی کرنے سے انکار کیا، جس کے بعد اس نے خودکشی کر لی۔ متوفی کی بہن کی جانب سے دیے گئے بیان کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ استغاثہ کا کہنا تھا کہ خاتون پہلے ملزم کے گھر میں اس کے ساتھ رہتی تھی اور دونوں کے درمیان باہمی رضامندی سے تعلق قائم تھا۔

الزامات میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ پہلے ملزم کے ایک دوست نے خاتون کے بارے میں نامناسب باتیں کیں، جبکہ اس کی بہن اور والدین اس تعلق کے خلاف تھے۔ استغاثہ کے مطابق پہلے ملزم کی بہن کے لیے طے کیے گئے رشتے میں بھی یہ شرط سامنے آئی تھی کہ اگر پہلے ملزم نے مذکورہ خاتون سے شادی کی تو اس کے ہونے والے شوہر کو یہ رشتہ منظور نہیں ہوگا۔ اس صورت حال کے باعث تعلق پر مبینہ طور پر دباؤ بڑھ گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ خاتون نے خودکشی سے قبل اپنی بڑی بہن سے فون پر بات کی تھی اور بتایا تھا کہ پہلے ملزم نے اس سے شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم عدالت کے مطابق محض اس اطلاع سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ملزمان نے خاتون کو خودکشی کے لیے اکسایا یا اسے اس انتہائی قدم کی طرف دھکیلا۔

بنچ نے واضح کیا کہ دستیاب مواد میں کسی ایسے عمل یا ارادے کا ثبوت نہیں ملتا جسے خودکشی پر اکسانے کے مترادف قرار دیا جا سکے۔ عدالت نے کہا کہ اگر شکایت کنندہ کے تمام الزامات کو درست بھی مان لیا جائے تو زیادہ سے زیادہ یہ سامنے آتا ہے کہ شادی سے انکار کے بعد خاتون نے خودکشی کی، لیکن اس سے ملزمان پر خودکشی کے لیے اکسانے کی قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔

عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مختلف افراد مشکل حالات اور رشتوں کے خاتمے پر الگ الگ انداز میں ردعمل دیتے ہیں۔ کسی تعلق کے ختم ہونے کے بعد اگر کوئی شخص خودکشی کر لیتا ہے تو ہر ایسے معاملے کو خودکار طور پر خودکشی پر اکسانے کا مقدمہ نہیں بنایا جا سکتا۔

سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ شادی سے انکار کے پیچھے خاتون کو خودکشی پر مجبور کرنے کا ارادہ ثابت نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ علم ملزمان سے منسوب کیا جا سکتا ہے کہ ان کے شادی سے انکار کے نتیجے میں خاتون اپنی جان لے لے گی۔

بنچ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب دونوں کے درمیان تعلق رضامندانہ تھا اور ملزم کے اہل خانہ بھی اس تعلق سے واقف اور اسے قبول کر رہے تھے تو بعد میں خاتون کو پہلے ملزم کے گھر سے کیوں لے جایا گیا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ خاتون نے بعد میں اپنی بڑی بہن کو خودکشی کا ارادہ ظاہر کیا، لیکن اسے روکنے یا صورت حال کو سنبھالنے کے لیے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔

سپریم کورٹ نے ان حالات میں ملزمان کے خلاف جاری کارروائی کو برقرار رکھنے سے انکار کرتے ہوئے 2024 کے سیشن کیس نمبر 101 کی کارروائی منسوخ کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ان الزامات کی بنیاد پر فوجداری مقدمہ جاری رکھنا مناسب نہیں ہے۔

عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ اگر مذکورہ ملزمان کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہوں تو حراست میں ہونے کی صورت میں انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ جو ملزمان پہلے ہی ضمانت پر تھے، ان کے ضمانتی مچلکے بھی منسوخ کرنے کا حکم دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button