
قومی تفتیشی ایجنسی کو منہ کی کھانی پڑی،سپریم کورٹ کے فیصلہ سے دیگر ملزمین کی بھی ضمانت پر رہائی کی راہ ہموار ہوگی،گلزار اعظمی
ممبئی 11/ فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)پانچ سالوں کی طویل قید و بند کے بعد ضمانت پر رہا ایک مسلم نوجوان کی ضمانت منسوخ کیئے جانے کی این آئی اے کی درخواست کو آج سپریم کورٹ آف انڈیا نے خارج کردیا، ملزم کی ضمانت پر رہائی کو National Investigation Agency نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا تھا لیکن جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکلاء کی بروقت مداخلت سے سپریم کورٹ آف انڈیا نے ین آئی اے کی درخواست کو مسترد کردیا اور ملزم کی ضمانت پر رہائی کو بحال رکھا۔
مہاراشٹر کے پربھنی شہر سے تعلق رکھنے والے اقبال احمد کبیر احمد کو ممبئی ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ نے مشروط ضمانت پر رہا کیا تھا، ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو این آئی اے نے سپریم کورٹ آف انڈیا میں چیلنج کیا تھا اور عدالت سے گذارش کی تھی کہ وہ ملزم کی ضمانت منسوخ کرے کیونکہ ممبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ قانوناً درست نہیں ہے۔
NIA کی جانب سے داخل پٹیشن کی سماعت آج سپریم کورٹ آف انڈیا کی دورکنی بینچ کے جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس سوریہ کانت کے سامنے عمل میں آئی جس کے دوان عدالت نے بامبے ہائی کورٹ کو فیصلہ کو درست قرار دیا،
عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ ملزم پانچ سال کا طویل عرصہ جیل میں گذر چکا ہے اور ابھی تک مقدمہ کی سماعت شروع نہیں ہوسکی اور مقدمہ کی سماعت کب شروع ہوگی اور کب اس کا اختتام ہوگا کسی کو نہیں معلوم لہذا ملزم کی ضمانت پر رہائی کا بامبے ہائی کورٹ کا فیصلہ صحیح ہے۔
جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس این ایم جمعدار کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ضمانت پررہائی کا فیصلہ عین قانون کے مطابق تحریر کیا گیا ہے جس پر نظر ثانی کی گنجائش نہیں ہے لہذا NIA کی عرضداشت خارج کی جاتی ہے، جسٹس این ایم جمعدار نے ہی اقبال احمد کی ضمانت پر رہائی کا فیصلہ تحریری کیا تھا۔
ملزم اقبال احمد کی پیروی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ سدھارتھ دوے اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ گورو اگروال نے عدالت کو بتایا کہ ضمانت کے رہائی کے بعد سے ملزم بلا ناغہ این آئی اے عدالت اور این آئی اے آفس میں حاضری لگا رہا ہے اور ملزم ہائی کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی پابندیوں کی پاسداری کررہا ہے لہذا NIA کی جانب سے ملزم کی ضمانت منسوخ کیئے جانے والے درخواست میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
اسی درمیان NIA کی نمائندگی کرتے ہوئے سالیسٹر جنر آف انڈیا تشار مہتا نے دو رکنی بینچ سے کہاکہ ملزم کی ضمانت فوراً منسوخ کردینا چاہئے کیونکہ یہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ دواران سماعت ملزم اس کے خلاف موجود ثبوت و شواہد سے چھیڑ چھاڑ کرسکتا ہے اور اس کے ملک سے فرار ہونے کے بھی امکانات ہیں نیز بامبے ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی غلط تشریح کرتے ہو ئے ملزم کو ضمانت پر رہا کیا ہے جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم اقبال احمد کے حق میں فیصلہ دیا اور این آئی اے کی ضمانت منسوخ کرنے کی عرضداشت کو مسترد کردیا۔
ملزم اقبال احمد کی ضمانت منسوخ کیئے جانے والی این آئی اے کی عرضداشت مسترد کیئے جانے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے پر جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلہ سے دیگر ملزمین کو بھی راحت حاصل ہوگی جو گذشتہ پانچ سالوں سے زائدعرصہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے مقید ہیں اور ان کی ضمانت پر رہائی کی رہا ہموارہوگی۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ہم نے پہلی سماعت پر ہی سینئر وکیل کی خدمت حاصل کرکے این آئی اے کی عرضداشت کی پر زور مخالفت کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عدالت نے این آئی اے کی ضمانت منسوخ کرنے والی عرضداشت کو سماعت کے لیئے قبول کرنے سے قبل ہی مسترد کردیا جس سے ملزم اور اس کے اہل خانہ نے راحت کی سانس لی۔
واضح رہے کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ملزمین اقبال احمد، ناصر یافعی، رئیس الدین اور شاہد خان سمیت پر تعزیرات ہند کی دفعات 120(b),471,، یو اے پی اے کی دفعات 13,16,18,18(b), 20, 38, 39 اور دھماکہ خیز مادہ کی قانون کی دفعات 4,5,6 کے تحت مقدمہ قائم کیا ہے اور ان پر یہ الزام عائد کیا ہیکہ وہ آئی ایس آئی ایس کے رکن ہیں اور ہندوستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں نیز انہوں داعش کے لیڈر ابوبکر البغدادی کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا ہے اور اس تعلق سے عربی میں تحریر ا یک حلف نامہ (بیعت) بھی ضبط کرنے کا پولس نے دعوی کیا ہے۔



