کیش اسکینڈل:سپریم کورٹ سے جسٹس یشونت ورما کی درخواست مسترد — تحقیقاتی عمل کو درست قرار دیا گیا
سپریم کورٹ نے جسٹس یشونت ورما کی عرضی ناقابلِ غور قرار دے دی
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے جسٹس یشونت ورما کی طرف سے دائر کردہ عرضی کو مسترد کر دیا ہے، جس میں انہوں نے اپنے خلاف دہلی میں کیش کیس سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ اور اس پر مبنی مواخذے کی سفارش کو چیلنج کیا تھا۔
عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ جسٹس ورما کی درخواست "قابل غور” نہیں ہے، اور داخلی تحقیقاتی پینل اور اُس وقت کے چیف جسٹس سنجیو کھنہ کی جانب سے اپنایا گیا طریقہ کار مکمل طور پر آئینی اور قانونی ہے۔
14 مارچ 2025 کی رات دہلی کے تغلق روڈ پر واقع دہلی ہائی کورٹ کے جج جسٹس یشونت ورما کے سرکاری بنگلے کے اسٹور روم میں آگ لگ گئی۔ اس وقت وہ شہر سے باہر تھے۔ جب پولیس اور فائر بریگیڈ موقع پر پہنچی تو وہاں بوریوں میں بھرے ہوئے 500 روپے کے نوٹوں کی بڑی مقدار مبینہ طور پر برآمد ہوئی۔
اس واقعے نے عدلیہ پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے۔ معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ نے از خود نوٹس لیتے ہوئے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جس جگہ نقدی ملی وہ جسٹس ورما اور ان کے خاندان کے کنٹرول میں تھی۔
رپورٹ کے مطابق، نقد رقم کے ذرائع نہ بتا پانے کو سنگین بدانتظامی قرار دیا گیا، اور جسٹس ورما کے خلاف مواخذے کی سفارش کی گئی۔
مانسون اجلاس میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن کے 200 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے اس مواخذے کی تحریک پر دستخط کیے اور لوک سبھا اسپیکر کو پیش کی۔ اس دوران جسٹس ورما نے سپریم کورٹ کا رخ کیا اور اس تحقیقاتی عمل کو غیر منصفانہ قرار دیا، لیکن عدالت نے ان کی عرضی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی عمل آئینی و شفاف تھا۔



