سپریم کورٹ کا سخت تبصرہ: "ہائی کورٹ کے کئی جج غیر ضروری وقفے لیتے ہیں”
سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ ججوں کے غیر ضروری وقفوں پر تبصرہ کیا
نئی دہلی، 14 مئی(اردو دنیا نیوز / ایجنسیاں)سپریم کورٹ نے بدھ کو جھارکھنڈ کے چار قیدیوں کی جانب سے عمر قید کے خلاف دائر عرضی کی سماعت کے دوران ہائی کورٹ کے ججوں کے کام کے انداز پر سخت تبصرہ کیا ہے۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کے سنگھ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کہا کہ ہائی کورٹس میں سماعت مکمل ہونے کے باوجود طویل عرصے تک فیصلے محفوظ رکھنا ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔
عدالت نے کہا کہ بعض جج بڑی محنت کرتے ہیں، لیکن کچھ جج غیر ضروری وقفے لیتے ہیں، جیسے کافی بریک، لنچ بریک یا دیگر۔ بنچ نے سوال کیا: "کیا وہ لنچ بریک تک مسلسل کام نہیں کر سکتے؟”
بینچ نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ججوں کی کارکردگی کا بھی آڈٹ ہو۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ ججوں کے رویے پر آنے والی شکایات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظام میں عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے رہنما خطوط طے کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
چاروں درخواست گزاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ درج فہرست قبائل اور پسماندہ طبقات سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی اپیلیں جھارکھنڈ ہائی کورٹ میں دو سے تین سال سے زیر التوا تھیں، جن پر فیصلہ محفوظ رکھا گیا تھا۔
تاہم، عدالت کو 5 مئی کو مطلع کیا گیا کہ ان چاروں میں سے تین مقدمات میں اپیلیں منظور کر لی گئی ہیں، جبکہ چوتھا مقدمہ اختلاف رائے کی وجہ سے دوسرے بنچ کو منتقل کیا گیا ہے۔
گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس سے یہ تفصیلات طلب کی تھیں کہ 31 جنوری 2025 یا اس سے پہلے کے وہ کون سے مقدمات ہیں جن میں سماعت مکمل ہو چکی ہے لیکن فیصلے سنائے نہیں گئے۔ اس کے علاوہ عدالت نے 9 مئی کو مزید وضاحت مانگی کہ فیصلے کب سنائے گئے اور عدالت کی ویب سائٹ پر کب اپ لوڈ کیے گئے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ ایسی تاخیر سے عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور اس رویے کو درست کرنے کے لیے لازمی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
درخواست گزاروں کی نمائندگی معروف وکیل فوزیہ شکیل نے کی۔ کیس کی اگلی سماعت جولائی 2025 میں مقرر کی گئی ہے۔



