قومی خبریں

سپریم کورٹ کا حکم، ہر مسافر کا وقت قیمتی ہے!مسافر کو 30 ہزار روپئے معاوضہ دیں،

ٹرین تاخیرہونے پر چھوٹ گئی تھی فلائٹ

نئی دہلی،09؍ ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ہندوستان میں #ٹرین کا تاخیر سے چلنا عام بات ہے۔ جس کی وجہ سے ہر روز #مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی بار اس کی وجہ سے مسافروں کو کافی نقصان کا سامنا کرناپڑتا ہے۔ آج کی خبر ٹرین کی تاخیر سے متعلق ہے جس کے حوالے سے #سپریم کورٹ نے بڑا حکم دیا ہے۔

دراصل #اجمیر جموں #ایکسپریس کے چار گھنٹے تاخیر کی وجہ سے ایک مسافر کی #فلائٹ چھوٹ گئی۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ نے ریلوے کو حکم دیا کہ وہ مسافر کو 30 ہزار روپئے معاوضہ ادا کرے۔ شکایت کنندہ ٹرین کے مسافر نے سب سے پہلے الور کے ڈسٹرکٹ کنزیومر ڈسپیوٹس ریڈرسل فورم میں اپنی #شکایت درج کروائی۔

اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں

فورم نے یہ بھی قبول کیا کہ ریلوے نے مسافر کو نقصان پہنچایا، اور فورم نے ریلوے کو معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد معاملہ قومی صارفین کے تنازعات کے ازالہ کمیشن نئی دہلی کے پاس آیا، جہاں مسافر کی جیت ہوئی ۔ دونوں جگہوں پر مسافر کی فتح کے بعد شمالی ریلوے نے ان فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ جس پر جسٹس ایم آر شر اور جسٹس انیرودھ بوس نے مسافر کے حق میں اپنا فیصلہ دیا۔

ریلوے اب ٹیکسی کے اخراجات کے طور پر 15000 روپئے، ٹکٹ کے اخراجات کے طور پر 10000 روپئے اور ذہنی پریشانی اور قانونی چارہ جوئی کے خرچ کے لیے 5000 رپوئے ادا کرے گا۔ فلائٹ تاخیر ہونے کے باعث مسافر کو ٹیکسی کے ذریعے سری نگر جانا پڑا اور ہوائی ٹکٹ کی صورت میں 9 ہزار روپئے کا نقصان ہوا۔

اس کے علاوہ ڈل جھیل میں شکارہ کی بکنگ کے لیے 10 ہزار روپے بھی چلے گئے۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی تنازعہ نہیں ہو سکتا کہ ہر مسافر کا وقت قیمتی ہے اور ہوسکتا ہے کہ وہ آگے کے سفر کے لیے ٹکٹ لے رکھا ہو۔ سرکاری ٹرانسپورٹ کو زندہ رہنا ہے اور نجی کھلاڑیوں سے مقابلہ کرنا ہوگا، اور انہیں اپنے نظام کو بہتر بنانا ہوگا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button