سپریم کورٹ نے آوارہ کتے کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا، وکلاء سے تحریری دلائل طلب
“ایک ہفتے میں تحریری دلائل جمع کرائے جائیں”
نئی دہلی 29-جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز آوارہ کتوں کے معاملے پر اپنے سابقہ حکم میں ترمیم سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت نے تمام فریقین کے وکلاء کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اپنے تحریری دلائل جمع کرائیں۔
یہ سماعت جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس سندیپ مہتا اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل بنچ کے سامنے ہوئی۔ بنچ نے تمام ریاستوں، نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا اور اینِمل ویلفیئر بورڈ آف انڈیا کے دلائل کے آخری مرحلے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔
اس سے قبل کتے کے مالکان، کتے کے کاٹنے سے متاثرہ افراد، جانوروں کے حقوق کے کارکنوں اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کی نمائندگی کرنے والے وکلاء نے اپنے دلائل پیش کیے۔ عدالت نے بعض ریاستوں کی جانب سے داخل کیے گئے مبہم حلف ناموں پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔
عدالت نے ازخود نوٹس کیس کے دوران این ایچ اے آئی کو ہدایت دی کہ وہ ایک ایسی ایپ تیار کرے جس کے ذریعے لوگ شاہراہوں پر آوارہ جانوروں کی موجودگی کی اطلاع دے سکیں۔ عدالت نے کہا کہ اگر کوئی شخص جانور کو دیکھے تو تصویر لے کر اپ لوڈ کرسکے تاکہ مستند شواہد دستیاب ہوں۔ اس پر این ایچ اے آئی کے وکیل نے یقین دہانی کرائی کہ ایسی ایپ تیار کی جائے گی۔
سماعت کے اختتام پر اے ڈبلیو بی آئی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملک بھر میں صرف 76 نس بندی مراکز کو تسلیم شدہ حیثیت حاصل ہے، جبکہ ریاستوں کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق آوارہ کتوں کی نس بندی کے 883 مراکز کام کر رہے ہیں، جن میں سے بیشتر کو ابھی تک باضابطہ منظوری نہیں ملی۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ جن مراکز کو تسلیم نہیں کیا گیا وہاں کیا سرگرمیاں جاری ہیں۔ نس بندی کے اعداد و شمار میں تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ممکنہ طور پر مختص فنڈز کا درست استعمال نہیں ہو رہا۔ بعض ریاستوں کی جانب سے مطلوبہ معلومات بھی ابھی تک فراہم نہیں کی گئیں۔
عدالت نے اے ڈبلیو بی آئی کو ہدایت دی کہ تمام زیر التواء درخواستوں پر مقررہ وقت میں فیصلہ کیا جائے اور یا تو انہیں منظور کیا جائے یا مسترد کیا جائے، تاکہ آوارہ کتوں کے مسئلے پر شفاف اور مؤثر عملدرآمد ممکن ہو سکے۔



