سرورققومی خبریں

عدالت میں حیران کن واقعہ:ریپ کے مجرم اور متاثرہ خاتون کا پھولوں کے ذریعے محبت کا اظہار

ریپ کے مجرم نے متاثرہ کو پھول دے کر شادی کی پیشکش کی

ریپ کیس میں متاثرہ خاتون اور مجرم کا شادی کا فیصلہ

نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)جمعرات کو بھارتی سپریم کورٹ میں ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے نہ صرف عدالت بلکہ وہاں موجود افراد کو بھی حیران اور جذباتی کر دیا۔ ایک ریپ کیس کی سماعت کے دوران متاثرہ خاتون اور مجرم نے عدالت کے روبرو ایک دوسرے کو پھول پیش کیے اور شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی، جس پر عدالت نے غیر معمولی فیصلہ سناتے ہوئے مجرم کی سزا عارضی طور پر معطل کر دی۔

یہ واقعہ جسٹس بی وی ناگرَتنا اور جسٹس ستییش چندر شرما کی بنچ کے سامنے پیش آیا۔ دونوں فریقین نے عدالت کو مطلع کیا کہ وہ شادی کرنا چاہتے ہیں۔ عدالت نے لنچ بریک کے دوران دونوں سے نجی ملاقات کی، جس میں شادی پر رضامندی کے بعد بنچ نے مجرم کی سزا کو فی الحال معطل کر دیا۔

عدالت نے کہا: "ہمیں امید ہے کہ شادی جلد از جلد ہو جائے گی۔ اس وقت تک سزا معطل رہے گی۔ شادی کی تاریخ اور دیگر تفصیلات دونوں کے والدین باہمی رضا مندی سے طے کریں گے۔”

عدالت کی ہدایت پر مجرم نے کھچا کھچ بھرے کورٹ روم میں متاثرہ خاتون کو شادی کے لیے پھولوں کے ساتھ پروپوز کیا، اور اس جذباتی لمحے پر عدالت میں موجود تمام افراد نے تالیاں بجا کر خوشی کا اظہار کیا۔

عصمت دری کیس کی تفصیلات:

مجرم پر الزام تھا کہ اس نے 2016 سے 2021 کے درمیان متاثرہ خاتون کو شادی کا جھوٹا وعدہ کر کے متعدد بار ریپ کیا۔ دونوں کی ملاقات فیس بک پر ہوئی تھی، اور خاتون دراصل مجرم کی بہن کی دوست تھی۔ وقت کے ساتھ ان کے درمیان قریبی تعلقات قائم ہوئے، اور کئی مرتبہ جنسی تعلق بھی ہوا۔ تاہم، بعد میں مجرم نے کہا کہ اس کی ماں اس رشتے کے لیے راضی نہیں۔ایف آئی آر کے مطابق، دونوں کی ملاقات فیس بک پر ہوئی اور وہ آہستہ آہستہ ایک جسمانی تعلق میں بندھ گئے۔ مرد مسلسل شادی کا وعدہ کرتا رہا، لیکن بعد میں اس نے اپنی والدہ کی مخالفت کا بہانہ بنا کر شادی سے انکار کر دیا۔

جب متاثرہ نے پولیس سے رجوع کیا تو مقدمہ چلا اور 5 ستمبر 2023 کو ٹرائل کورٹ نے اسے آئی پی سی کی دفعہ 376(2)(N) کے تحت 10 سال قید اور دفعہ 417 کے تحت 2 سال قید کی سزا سنائی۔ مدعا علیہ نے مدراس ہائی کورٹ میں اپیل کی، لیکن وہاں سے کوئی ریلیف نہ ملنے پر سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

 عدالت میں متاثرہ کی نمائندگی وکیل نکھل جین نے کی۔ سپریم کورٹ نے 6 مئی 2025 کے حکم کے تحت مجرم کو عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اسے اب دوبارہ جیل بھیجا جائے گا اور متعلقہ سیشن کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا، جہاں سے مناسب حالات میں ضمانت حاصل کی جا سکتی ہے۔اس کیس کی اگلی سماعت 25 جولائی 2025 کو مقرر کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button