سرورققومی خبریں

سپریم کورٹ کی سخت کارروائی: الہ آباد ہائی کورٹ کے عصمت دری کیس میں تبصرے پر نوٹس جاری

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے متنازعہ ریمارکس پر از خود نوٹس لیا

سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر روک لگا دی، "حساسیت کی کمی” قرار

نئی دہلی، 26 مارچ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)سپریم کورٹ نے بدھ کو الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حالیہ فیصلے پر روک لگا دی جس میں عدالت نے عصمت دری کے ایک معاملے میں ملزم کو بری کر دیا تھا اور متنازعہ تبصرہ کیا تھا۔ ازخود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے اسے "حساسیت کی کمی” قرار دیا اور اتر پردیش اور مرکزی حکومتوں کو نوٹس جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) کی ہدایت کے مطابق اس معاملے کو از خود لیا گیا ہے۔ جسٹس بی آر گاوائی کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ ہم ہائی کورٹ کے حکم کو دیکھ کر حیران ہیں۔ اس میں کچھ تبصرے انتہائی سخت اور غیر حساس ہیں۔ سپریم کورٹ نے خاص طور پر حکم کے پیراگراف 24، 25 اور 26 پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بنچ نے یہ بھی کہا کہ متاثرہ کی ماں نے اس معاملے میں انصاف کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے۔

عدالت عظمیٰ نے ہدایت کی کہ ان کی درخواست کو بھی اس کیس کے ساتھ ٹیگ کیا جائے۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ فیصلہ جلد بازی میں نہیں لیا گیا بلکہ اسے چار ماہ تک محفوظ رکھنے کے بعد سنایا گیا۔ اس کے باوجود اس میں شدید بے حسی دیکھی گئی۔ سپریم کورٹ نے مرکزی اور اتر پردیش حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔ ساتھ ہی، سالیسٹر جنرل اور اٹارنی جنرل کو اس معاملے میں عدالت کی مدد کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس سے قبل اس معاملے پر دہلی کمیشن برائے خواتین کی سابق سربراہ اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سواتی مالیوال اور مرکزی وزیر اناپورنا دیوی نے سپریم کورٹ سے مداخلت کی درخواست کی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ نابالغ لڑکی کی شرمگاہ کو چھونا اور اسے پلیا کے نیچے گھسیٹنا عصمت دری یااسے عصمت دری یا حملہ کرنے کی کوشش نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے یہ ریمارکس 11 سالہ بچی سے زیادتی کے واقعے کی سماعت کرتے ہوئے دیے اور ملزم کو بری کرنے کا حکم دیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button