قومی خبریں

ٹوئٹر پرحکومت کے بعد سپریم کورٹ کا جھٹکا

سپریم کورٹ کا ٹوئٹر اور فیس بک کے خلاف نوٹس جاری

جعلی خبروں کے خلاف سخت قدم، 97 فیصد اکاؤنٹس بلاک

نئی دہلی (اردو دنیا نیوز):جمعہ کے روز سپریم کورٹ آف انڈیا نے ٹوئٹر اور فیس بک پر جاری جعلی خبروں اور اشتعال انگیز مواد کے پھیلاؤ کے خلاف دائر مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ایک اہم قدم اٹھایا۔ عدالت نے اس معاملے میں مرکز اور متعلقہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے پیغامات پر قدغن لگانے کے لئے جامع منصوبہ بندی پیش کریں۔

یہ درخواست بی جے پی رہنما اور وکیل ونیت گوینکا کی طرف سے دائر کی گئی تھی، جنہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی غلط خبریں ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔

چیف جسٹس ایس اے بوبڑے کی صدارت میں عدالت نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس اور اشتعال انگیز مواد کو روکنے کے لیے مؤثر طریقہ کار اپنایا جائے۔ ساتھ ہی مرکز سے کہا گیا کہ مجوزہ سوشل میڈیا ریگولیشن میں ایسے اقدامات کو شامل کیا جائے۔

 ٹوئٹر کی کارروائیاں:

رپورٹس کے مطابق، ٹوئٹر نے مرکز کی ہدایت پر 1435 مشتبہ اکاؤنٹس میں سے 1398 کو بلاک کر دیا ہے۔ ان میں سے کچھ اکاؤنٹس لال قلعہ میں پیش آئے واقعہ کے بعد #farmergenocide جیسے ہیش ٹیگز کے ذریعے گمراہ کن معلومات پھیلا رہے تھے۔

 پارلیمانی تنبیہ:

راجیہ سبھا میں مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے جمعرات کے روز کہا کہ اگر سوشل میڈیا کمپنیوں نے ہندوستانی قوانین پر عمل نہیں کیا تو حکومت کارروائی کرنے پر مجبور ہوگی۔ انہوں نے کہا:

"ہم سوشل میڈیا کا احترام کرتے ہیں، لیکن اگر یہ غلط معلومات اور تشدد کو فروغ دیتا ہے تو کارروائی ناگزیر ہے۔”

انہوں نے امریکہ میں کیپٹل ہل اور ہندوستان میں لال قلعہ کے واقعات کے تضاد کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ "یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک واقعہ پر کارروائی ہو اور دوسرے پر نہ ہو؟”

متعلقہ خبریں

Back to top button