قومی خبریں

یوپی کے غیر تسلیم شدہ مدارس کا سروے ٹارگٹڈ سروے ہے:اسد الدین اویسی

جے پور،14ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر بیرسٹر اسد الدین اویسی نے گیان واپی کیس میں عدالتی فیصلے کو عبادت گاہوں کے قانون 1991 کیخلاف ایک جھٹکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں اس طرح کے بہت سے مسائل پیدا کئے جائیں گے ۔اویسی نے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ کمیٹی اس سلسلے میں اپیل کرے گی۔ اویسی نے اتر پردیش میں مدارس کے سروے کو ٹارگٹڈ سروے قرار دیا۔گیان واپی کیس میں وارانسی کی ضلعی عدالت کے فیصلے کے بارے میں پوچھے جانے پر اویسی نے یہاں نامہ نگاروں سے کہا ہمارا خیال ہے کہ یہ فیصلہ غلط ہے، یہ فیصلہ ایک دھچکا ہے۔ یہ فیصلہ عبادت گاہوں (خصوصی دفعات) ایکٹ 1991 کے سراسر خلاف ہے۔ اس فیصلے سے مستقبل میں ایسے کئی مسائل پیدا کئے جائیں گے۔ اس فیصلے سے ہندوستان میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ اتر پردیش کے وارانسی کی ضلعی عدالت نے پیر کو گیان واپی کیس کی برقراری پر سوال اٹھانے والی مسلم فریق کی عرضی کو خارج کر دیا اور کہا کہ وہ دیوتاؤں کی روزانہ پوجا کرنے کے حق کی مانگ والی عرضی کی سماعت جاری رکھے گی۔

اویسی نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ مسجد ا نتظامیہ کمیٹی اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی ۔اتر پردیش میں مدارس کے سروے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ بغیر گرانٹ کے صرف مدارس کے لئے سروے کیوں کیا جا رہا ہے؟ آر ایس ایس کے زیر انتظام اسکولوں اور مشنری اسکولوں، پرائیویٹ اور سرکاری اسکولوں کا سروے کیوں نہیں کیا جا رہا ہے؟ میری نظر میں صرف ایک کمیونٹی کے غیر امدادی مدارس کا سروے کرنا ایک ٹارگٹڈ سروے ہے اور اس کے ذریعے انہیں بعد میں ہراساں کیا جائے گا۔ اسی لیے میں نے اس سروے کو چھوٹا NRC قرار دیا ہے۔ اگر آپ واقعی سروے کروانا چاہتے ہیں تو تمام اداروں کا سروے کریں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button