بین الاقوامی خبریں

شام: 12 سال سے زائدعرصے سے گرفتار صحافی کیلئے امریکی کوششیں شروع

واشنگٹن،10دسمبر (ایجنسیز) امریکہ نے اسرائیل میں امریکہ سمیت کئی ملکوں کے صحافیوں کی جانیں اور اٹھائے جانے کے بعد شام میں پچھلے 12 سال سے گرفتار صحافی کی بھی تلاش شروع کر دی ہے۔ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے پیر کے روز اس سلسلے میں کہا کہ، امریکہ کو آسٹن ٹائس نام کے امریکی صحافی کی تلاش ہے جو بارہ سال سے زائد عرصہ قبل شام میں گرفتار ہو گیا تھا۔جیک سلیوان کے مطابق اس سلسلے میں امریکی حکام شام میں لوگوں سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ اپنے اس شہری کا ترجیحاً پتہ چلا یا جا سکے۔ کیونکہ یہ ہماری اولیں ترجیح ہے کہ ہم اپنے شہری صحافی کو تلاش کریں اور اسے نکال لائیں اور وہ اپنے خاندان سے آ ملیں۔

جیک سلیوان نے اس امر کا اظہار امریکی ٹی وی چینل ‘ اے بی سی’ کے گڈ مارننگ امریکہ پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔انہوں نے کہا ‘ ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ہمارا رابطہ ترک اور دوسرے ملکوں کے لوگوں کے ذریعے رابطہ ہے۔ ہم نے شام میں زمین پر موجود لوگوں سے بھی اپیل کی ہے کہ ہماری آسٹن ٹائس کواس کے گھر تک پہنچانے میں میں مدد کریں۔ یاد رہے شام 2011 سے شام میں خانہ جنگی کے دوران اب تک لاکھوں لوگ ہلاک اور ملینز کی تعداد میں شامی عوام بے گھر ہو کر نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اسی عرصے میں امریکہ کا 31 سالہ آسٹن ٹائس صحافی کواگست 2012 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ ان دنوں دمشق سے خانہ جنگی کی رپورٹنگ کر رہا تھا۔ اب بشار حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ نے اس کی تلاش سنجیدگی سے شروع کر دی ہے۔ صدر جوبائیڈن نے اتوار کے روز آسٹن ٹائس کے بارے میں کہاکہ، امریکہ سمجھتا ہے کہ آسٹن ٹائس زندہ ہے۔جوبائیڈن نے مزید کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ ہم اسے واپس اس کے گھر تک لا سکیں گے۔ لیکن ابھی تک ہمارے پاس اس کے بارے میں کوئی براہ راست شہادت نہیں ہے کہ وہ کہاں ہے اور کس حال میں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button