ماسکو میں سفارتخانے کی عمارت پر شامی حزبِ اختلاف کا پرچم لہرا دیا گیا
روس شام کے معزول صدر بشار الاسد کا اہم اتحادی تھا۔
ماسکو، 9دسمبر (ایجنسیز) اے ایف پی کے ایک صحافی نے دیکھا کہ پیر کی صبح ماسکو میں شامی سفارت خانے میں آدمیوں کے ایک گروپ نے حزبِ اختلاف کا پرچم بلند کیا۔سفارت خانے کی بالکونی میں کھڑے افراد نے تالیاں بجائیں اور گانا گایا جب انہوں نے گرتی ہوئی برف کے نیچے سبز، سرخ، سیاہ اور سفید رنگوں پر مشتمل شامی حزبِ اختلاف کا پرچم لہرایا۔
سفارت خانے کے ایک نمائندے نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ٹاس کو بتایا کہ آج سفارت خانہ کھل گیا اور ایک نئے پرچم تلے معمول کے مطابق کام کر رہا ہے۔روس شام کے معزول صدر بشار الاسد کا اہم اتحادی تھا۔کریملن کے ایک ذریعے نے اتوار کے روز روسی خبر رساں ایجنسیوں کو بتایا کہ جب مسلح اپوزیشن گروپ
دمشق میں داخل ہوئے توالاسد ملک سے فرار ہو گئے تھے اور اس وقت وہ اور ان کا خاندان ماسکو میں تھے۔ذرائع نے یہ بھی کہا کہ حزبِ اختلاف کی مسلح افواج جنہوں نے انتہائی غیر متوقع حملے میں الاسد کو اقتدار سے ہٹا دیا، انہوں نے شام کی سرزمین پر روسی فوجی مراکز اور سفارتی اداروں کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔



