ہائی کورٹ نے آئی بی افسر قتل کیس میں طاہر حسین کی درخواست ضمانت مسترد کردی
کیس کی سنگینی اور حالات کو دیکھتے ہوئے انہیں رہائی نہیں دی جا سکتی۔
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)دہلی ہائی کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات کے دوران آئی بی افسر انکت شرما کے قتل کیس میں گرفتار سابق کونسلر محمد طاہر حسین کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ملزم کی ضمانت دینے کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔ جسٹس نینا بنسل کرشنا نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا: "ضمانت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔” دہلی پولیس نے بھی ضمانت کی مخالفت کی اور مؤقف اختیار کیا کہ حسین ایک بااثر شخص ہیں اور اگر انہیں رہا کیا گیا تو گواہوں کو متاثر کرنے کا خدشہ ہے۔
طاہر حسین کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ سال سے جیل میں ہیں، جبکہ کیس کے دیگر ملزمان کو ضمانت مل چکی ہے اور کچھ گواہوں نے بھی حسین کے حق میں بیانات دیے ہیں، تاہم نچلی عدالت نے ان نکات پر غور نہیں کیا۔ دسمبر 2023 میں بھی حسین نے ضمانت کی درخواست دی تھی، لیکن نئے شواہد سامنے آنے پر انہوں نے درخواست واپس لے لی تھی۔ اس کے بعد 12 مارچ 2024 کو ٹرائل کورٹ نے بھی ان کی درخواست مسترد کر دی تھی کیونکہ حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔
یہ مقدمہ انکت شرما کے والد کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ انکت شرما، جو انٹیلی جنس بیورو میں افسر تھے، فسادات کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے۔ بعد ازاں ان کی نعش چاند باغ کے قریب ایک نالے سے برآمد ہوئی، جس پر متعدد زخموں کے نشانات تھے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کے جسم پر دھاردار ہتھیاروں اور بھاری چیزوں سے لگے 51 زخم موجود تھے۔
مارچ 2023 میں ٹرائل کورٹ نے طاہر حسین اور دیگر 10 ملزمان—حسین، ناظم، قاسم، سمیر خان، انیس، فیروز، جاوید، گلفام، شعیب عالم اور منتظم—کے خلاف قتل، سازش، فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور دیگر دفعات کے تحت الزامات عائد کیے تھے۔ طاہر حسین پر دہلی فسادات کو بھڑکانے کا الزام بھی ہے اور وہ تقریباً پانچ سال سے جیل میں ہیں۔
جنوری 2025 میں سپریم کورٹ نے طاہر حسین کو حراستی پیرول منظور کیا تھا تاکہ وہ 29 جنوری سے 3 فروری تک دہلی اسمبلی انتخابات کی مہم میں حصہ لے سکیں۔ اس دوران اے آئی ایم آئی ایم نے انہیں مصطفی آباد اسمبلی سیٹ سے ٹکٹ دیا تھا۔ یہ مقدمہ دہلی فسادات کے سب سے زیادہ ہائی پروفائل کیسز میں شمار کیا جاتا ہے اور اس پر ملک بھر کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ عدالت کا تازہ فیصلہ طاہر حسین کے لیے ایک بڑا قانونی جھٹکا ہے۔



