بین الاقوامی خبریں

امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز پر بھی طالبان قابض۔طالبان کچھ ہی دنوں میں کابل کا محاصرہ کر سکتے ہیں، انخلاء میں تیزی

کابل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) افغان طالبان نے کابل پہنچ پرافغان دارالحکومت کو بزور طاقت فتح نہ کرنے اورشہریوں اور حکومتی اہلکاروں کیلئے عام معافی کا اعلان کردیا ہے۔ طالبان نے کابل کو بزور طاقت فتح نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امارات اسلامی کے اعلامیہ میں طالبان کو کابل کے دروازوں پر کھڑے رہ کر اندر جانے سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ تمام شہریوں اور حکومتی اہلکاروں کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے پرامن طریقے سے کابل کا کنٹرول حاصل کرنے کا عزم کیا ہے۔طالبان نے 60 لاکھ ڈالر کے امریکی بلیک ہاک #ہیلی #کاپٹروں سمیت کئی ٹن کا امریکی سازوسامان قبضے میں لے لیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق طالبان کی افغانستان میں تیزی سے پیش قدمی کا سلسلہ جاری ہے۔ #طالبان نے امریکہ کا بڑی تعداد میں عسکری سازوسامان قبضے میں لے لیا جبکہ قبضے میں لیے گئے ہیلی کاپٹر کی قندھار شہر میں پرواز بھی کی گئی۔روسی ساختہ ہیلی کاپٹروں کا اڑانے والے افغان حکومت کے پائلٹس ہیں جو طالبان کے ساتھ شامل ہو گئے تھے اور ان ہیلی کاپٹروں کی کابل کے نواح میں پروازیں اور ان کے ذریعے حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

امریکہ نے طالبان سے لڑنے کے لیے افغان حکومت کو اربوں ڈالر کے ہتھیاروں اور آلات فراہم کیے تھے لیکن مقامی حکومتوں کے خاتمے اور افغان فوج کی شکست کے بعد اب یہ عسکری سازوسامان طالبان کے استعمال میں آ رہا ہے۔امریکہ کے جدید ترین ہیلی #کاپٹروں کا طالبان کے قبضے میں آنے سے افغان فوج کو مزید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اب طالبان کی جانب سے ہوائی حملے کا بھی امکان بڑھ گیا ہے۔دوسری جانب طالبان نے جلال آباد پر بغیر لڑے ہی کنٹرول حاصل کر لیا اور گورنر جلال آباد نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

 افغانستان میں طالبان کی تیز تر پیش قدمی کے نتیجے میں جرمن حکومت افغان دارالحکومت کابل سے فوج کے ذریعے انخلاء کو یقینی بنانے کی تیاری کے حوالے سے شدید دباؤ میں ہے۔ جرمن شہری اور برلن حکومت کے لیے کام کرنے والے مقامی افغان عملے کو جلد سے جلد آئندہ ہفتے کے آغاز تک ملک سے باہر منتقل کیا جائے گا۔ ہفتے کے روز طالبان نے شمالی #افغانستان میں مزار شریف شہر پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ امریکا اپنے سفارت خانے کے عملے کی محفوظ واپسی کے لیے پانچ ہزار فوجی #کابل بھیجنا چاہتا ہے۔امریکی انٹیلی جنس نے اندازہ لگایا ہے کہ طالبان 3 دن سے 1 ہفتے کے درمیان افغانستان کے دارالحکومت کابل کا محاصرہ کر سکتے ہیں۔

سی این این نے امریکی انٹیلی جنس کی معلومات کا حوالہ اورنام خفیہ رکھے جانے والے امریکی سفارتی ذرائع کے حوالے سے اپنی خبر میں لکھا ہے کہ طالبان 3 دن سے 1 ہفتے تک کابل کا محاصرہ کر سکتے ہیں اور اس سنیاریو کا #واشنگٹن میں جائزہ لیا جا رہا ہے۔امریکی خفیہ ایجنسیوں نے اس سے قبل طالبان کی کابل تک پیش قدمی کے لیے ایک طویل مدت کا تصور کیا تھا تا ہم طالبان کی تیزی سے پیش رفت کے پیش نظر اس مدت کو کم کر کے 1 ہفتہ کر دیا ہے۔

دوسری طرف اسی خبر کے مطابق کابل میں امریکی سفارت خانے کے اہلکاروں کو ”تمام حساس مواد کو تباہ کرنے” کی ہدایت دی گئی ہے۔سفارت خانے کے اہلکاروں کو بھیجے گئے اور سی این این کے علم میں ہونے والے میمو کے مطابق، امریکی حکام نے یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مذکورہ مواد کو پروپیگنڈا کے مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button