بین الاقوامی خبریں

استنبول کانفرنس میں شرکت کے لیے طالبان نے نئی شرائط رکھ دیں

نیویارک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)افغان طالبان نے اقوامِ متحدہ کے توسط سے ترکی میں منعقد ہونے والی مجوزہ کانفرنس میں شرکت کے لیے نئی شرائط پیش کر دی ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد افغانستان کی صورتِ حال کو زیرِ غور لانا ہے۔طالبان کے ایک سینئر رہنما نے بتایا ہے کہ وہ کانفرنس میں اسی صورت میں شرکت کر سکتے ہیں جب اس بات کی ضمانت دی جائے کہ کانفرنس کا دورانیہ مختصر ہو گا، کئی اہم معاملات پر فیصلہ سازی کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہو گی اور طالبان کا وفد جونیئر قیادت پر مشتمل ہوگا۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر طالبان رہنما نے کہا کہ ان کی قیادت نے تجویز پیش کی ہے کہ استنبول کانفرنس تین روز سے زیادہ طویل نہیں ہونی چاہیے۔طالبان کے ایک اور سینئر رہنما نے بھی مذکورہ خبر کی تصدیق کی ہے۔افغانستان کی صورتِ حال پر استنبول کانفرنس کی میزبانی مشترکہ طور پر اقوامِ متحدہ، ترکی اور قطر کریں گے۔ تاہم، کانفرنس کی حتمی تاریخ کا اب تک کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔

یاد رہے کہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن کے 11 ستمبر تک افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کے اعلان کے بعد واشنگٹن نے اپریل میں استنبول کانفرنس کی تجویز دی تھی۔طالبان نے افغان امن عمل کے سلسلے میں روس کے دارالحکومت ماسکو میں اسی طرح کی ایک کانفرنس میں شرکت کی تھی، لیکن انہوں نے ترکی میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے معذرت کر لی تھی۔طالبان کا مو?قف تھا کہ وہ مذکورہ کانفرنس اور دیگر معاملات پر غور کر رہے ہیں۔

طالبان کے قطر میں واقع سیاسی دفتر کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ شیخ عبدالحکیم اور کئی دیگر رہنماوں نے تنظیم کے قائد ہیبت اللہ اخونزادہ سے مشاورت کے لیے خطے کا دورہ کیا تھا۔ملا فاضل، ملا شیریں اور ملا عبدالمنان بھی شیخ عبدالحکیم کے ہمراہ تھے۔ طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے یہ تمام ارکان طالبان کی رہبر شوریٰ کے رکن بھی ہیں۔طالبان رہنما کے مطابق قیادت سے مشاورت کا یہ عمل تقریباً ایک ماہ تک جاری رہا اور یہ گزشتہ ہفتے ہی اختتام کو پہنچا ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق طالبان رہنماؤں کی بات چیت کا عمل پاکستان میں ہوا ہے، جہاں افغان حکومت کے مطابق، بیشتر طالبان قیادت مقیم ہے۔امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے بھی حال ہی میں جرمن نیوز ویب سائٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں اس دعوے کی تصدیق کی تھی۔ خلیل زاد کا کہنا تھا کہ اگر امن کی یہ کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور پاکستان و افغانستان کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہوا تو پاکستان کو اس کا نقصان برداشت کرنا ہو گا۔

ان کے بقول، پاکستان کو ناکامی کے الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ بیشتر طالبان قیادت وہیں مقیم ہے۔ دوسری جانب پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے کی جانے والی کوششوں میں مدد کے لیے طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر رہا ہے۔طالبان رہنما کا کہنا ہے کہ طالبان قیادت استنبول کانفرنس میں شرکت کی حامی نہیں۔

تاہم، وہ پاکستان اور قطر کی درخواست پر چند شرائط کے ساتھ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔مشاورت میں کون کون سے رہنما شامل ہیں؟ اس حوالے سے طالبان رہنما نے تفصیلات نہیں بتائیں اور نہ ہی انہوں نے یہ بتایا کہ استنبول کانفرنس میں طالبان کی نمائندگی کون کرے گا۔دوسری جانب افغان حکومتی ٹیم کے ترجمان نادر ندیری نے کہا ہے کہ وہ طالبان کی استنبول کانفرنس میں شرکت سے متعلق شرائط سے لاعلم ہیں اور اب تک ان سے باقاعدہ طور پر کوئی معلومات شیئر نہیں کی گئیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button