بین الاقوامی خبریں

جرمن چانسلر میرکل نے طالبان کے ساتھ بات چیت کو ضروری قرار دیا

برلن، 6ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)جرمن چانسلر نے کہا ہے کہ جرمن حکومت کے ساتھ کام کرنے والے افغانوں کو باہر نکالنے کے لیے بات چیت ضروری ہے۔ دریں اثنا چوٹی کے ایک افغان مزاحمتی رہنما کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ جنگ روکنے کے لیے تیار ہیں۔ جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اتوار کے روز کہا کہ وہ طالبان جس نے افغانستان کے تقریباً پورے علاقے پر قبضہ کرلیا ہے، کے ساتھ سیاسی مذاکرات شروع کرنے کے حق میں ہیں۔

میرکل کا کہنا تھا کہ طالبان کے حوالے سے بہر حال حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ان سے بات کرنی چاہئے کیونکہ اب وہی لوگ اقتدار میں ہیں جن کے ساتھ ہم بات چیت کرسکتے ہیں۔چانسلر میرکل نے ان خیالات کا اظہار مغربی جرمنی کے شہر ہاگن کے دورے کے دوران کیا، جو گزشتہ برس سیلاب کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات چیت اس لیے بھی ضروری ہے تاکہ افغانستان میں رہ جانے والے افغانوں کو نکالنے میں مدد مل سکے۔میرکل نے مزید کہاکہ ہم ان لوگوں کو وہاں سے باہر نکالنا چاہتے ہیں ،جنہو ں نے بالخصوص جرمن ترقیاتی تنظیموں کے لیے کام کیا ہے اور خود کو خوفز دہ محسوس کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بات چیت سے ہمیں افغانستان میں انسانی امداد کی ترسیل جاری رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ جرمن رہنما کا کہنا تھا کہ کابل بین الاقوامی ہوائی اڈے کو حال ہی میں پروازوں کے لیے دوبارہ کھول دیا جانا ایک ’’اچھا اشارہ‘‘ ہے۔سی ڈی یو کے چانسلر کے عہدے کے امیدوار آرمن لاشیٹ، جو میرکل کے ساتھ دورے پر موجود تھے، نے بھی طالبان کے ساتھ بات چیت کرنے کی حمایت کی۔

طالبان کے ترجمان نے اتوار کے روز ایک جرمن اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا گروپ جرمنی کے ساتھ مضبوط اور سرکاری سفارتی تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔میرکل نے تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ طالبان کے کنٹرول والے افغانستان کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات کی حمایت کرتی ہیں۔

جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے اس ہفتے کے اوائل میں کہا تھا کہ اگر طالبان دیگر شرائط کی پابندی کرنے کے علاوہ بنیادی انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں تو جرمنی کابل میں اپنا سفارتی دفتر کھول سکتا ہے۔

اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں

متعلقہ خبریں

Back to top button