سرکاری ڈاکٹروں کی غفلت کی انتہا ۔علاج کیا لیکن سر میں لوہے کا نٹ ویسے ہی چھوڑدیا
ایک شخص سر پر چوٹ لے کر سرکاری اسپتال پہنچا۔ ڈاکٹروں نے اس کا علاج کر کے گھر بھیج دیا۔ تاہم زخم سے خون بہنا بند نہ ہونے پر اہل خانہ کو شک ہوا اور اسے نجی اسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے وہاں اسکین کیا تو اصل بات سامنے آئی۔ سر پر جہاں ٹانکے لگائے گئے تھے وہاں لوہے کی نٹ دیکھ کر ڈاکٹر حیران رہ گئے۔ یہ واقعہ تمل ناڈو میں پیش آیا۔
تمل ناڈو:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) کارتیکیان تملناڈو میں تروپتر ضلع کے وانیامباڈی علاقے سے لاری ڈرائیور کے طور پر کام کرتا ہے۔ پیر کی صبح تقریباً 5 بجے ایک پرائیویٹ بس نے کارتی کیان کی لاری کو پیچھے سے ٹکر مار دی۔ جس کے نتیجے میں لاری بے قابو ہوکر سڑک کے کنارے ایک کھائی میں الٹ گئی۔ اس حادثے میں کارتیکیان کے سر پر شدید چوٹ آئی۔ مقامی لوگوں نے اسے بچایا اور ویلور کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال لے گئے۔ وہاں ڈاکٹروں نے متاثرہ کا علاج کیا اور سر پر ٹانکے لگائے۔ ڈاکٹروں نے اس کا علاج کر کے گھر بھیج دیا۔
تاہم زخم سے خون بہنا بند نہ ہونے پر اہل خانہ کو شک ہوا اور اسے نجی اسپتال لے گئے۔ ڈاکٹروں نے وہاں اسکین کیا تو اصل بات سامنے آئی۔ سر پر جہاں ٹانکے لگائے گئے تھے وہاں لوہے کی نٹ دیکھ کر ڈاکٹر حیران رہ گئے۔اسکین میں ڈاکٹروں کو کارتیکیان کے سر میں لوہے کا نٹ ملا۔ بعد میں آپریشن کیا گیا اور آئرن نٹ نکال دیا گیا۔
زخم کی جگہ میں انفیکشن کے باعث ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دو دن بعد دوبارہ ٹانکے لگائے جائیں گے۔ کارتیکیان کے رشتہ داروں نے سرکاری ڈاکٹروں کی غفلت پر برہمی کا اظہار کیا۔ ویلور گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال کے ڈین ڈاکٹر پاپاپتی نے اس واقعہ کے بارے میں وضاحت طلب کی، لیکن انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں ابھی تک کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔



