سرورققومی خبریں

گوا جنسی استحصال کیس: 13 سال بعد ‘تہلکہ’ کے سابق مدیرِ اعلیٰ ترون تیج پال کو 10 سال قید، سپریم کورٹ میں اپیل کا اعلان

ترون تیج پال 2013 کے جنسی استحصال کیس میں مجرم قرار، بامبے ہائی کورٹ نے 2021 کی بریت کا فیصلہ کالعدم کر دیا

ممبئی، 6 اگست (اردو دنیا نیوز/ایجنسیاں) 2013 کے ہائی پروفائل گوا جنسی استحصال مقدمے میں تقریباً 13 برس بعد بمبئی ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے تہلکہ میگزین کے سابق ایڈیٹر اِن چیف ترون تیج پال کو مجرم قرار دے دیا۔ عدالت نے گوا کی سیشن کورٹ کی جانب سے 2021 میں سنایا گیا بریت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ترون تیج پال کو 10 سال قید کی سزا سنائی۔ سزا سنائے جانے کے بعد ترون تیج پال نے اعلان کیا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

جسٹس ڈاکٹر نیلا گوکھلے اور جسٹس امیت جمسندیکر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ماتحت عدالت نے شواہد اور متاثرہ خاتون کی گواہی کا درست قانونی تناظر میں جائزہ نہیں لیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں قانونی خامیاں موجود تھیں، اس لیے اسے برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ ہائی کورٹ نے ترون تیج پال کو تعزیرات ہند کی دفعات 376(2)(F)، 376(2)(K)، 354A اور 354B کے تحت عصمت دری، جنسی ہراسانی اور خاتون کے کپڑے اتارنے کی نیت سے حملہ کرنے کا مجرم قرار دیا۔

یہ مقدمہ نومبر 2013 کا ہے، جب تہلکہ میگزین کی ایک جونیئر خاتون صحافی نے الزام عائد کیا تھا کہ گوا میں میگزین کی ایک تقریب کے دوران ہوٹل کی لفٹ میں ترون تیج پال نے دو مرتبہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ شکایت درج ہونے کے بعد تیج پال کو گرفتار کیا گیا، تاہم بعد میں انہیں ضمانت مل گئی اور مقدمہ گوا کی ماپوسا سیشن کورٹ میں زیر سماعت رہا۔

مئی 2021 میں سیشن کورٹ نے شواہد میں شک کا فائدہ دیتے ہوئے ترون تیج پال کو تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔ گوا حکومت نے اس فیصلے کے خلاف بمبئی ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی۔ دونوں فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا اور بعد ازاں بریت کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے ملزم کو مجرم قرار دیا۔

ریاست کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ نے متاثرہ خاتون کے طرز عمل کے بارے میں روایتی تصورات کو بنیاد بنایا، جبکہ جنسی استحصال کے متاثرین کا ردعمل ہر شخص کی شخصیت، حالات اور سماجی پس منظر کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاتون کا واقعے کے بعد اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں جاری رکھنا اس کی شکایت کو مشکوک نہیں بناتا۔

استغاثہ نے ترون تیج پال کی جانب سے متاثرہ خاتون کو بھیجی گئی معافی کی ای میل کا بھی حوالہ دیا۔ تشار مہتا کے مطابق ای میل میں افسوس، شرمندگی اور غلط فہمی جیسے الفاظ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کوئی واقعہ پیش آیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کچھ نہ ہوا ہوتا تو معافی یا ندامت کے اظہار کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

دوسری جانب ترون تیج پال کے وکیل عباد پونڈا نے مؤقف اختیار کیا کہ معافی کی ای میل کو غلط انداز میں جنسی زیادتی کے اعتراف کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ای میل میں کسی غیر رضامندانہ جسمانی یا جنسی تعلق کا اعتراف موجود نہیں، بلکہ صرف باہمی رضامندی سے ہونے والی گفتگو کا ذکر کیا گیا تھا۔ دفاع نے عدالت سے استدعا کی کہ ای میل کی تشریح مکمل سیاق و سباق میں کی جائے۔

سزا سنائے جانے کے بعد ترون تیج پال نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف کارروائی سیاسی انتقام کے تحت کی جا رہی ہے اور انہیں عدالتی نظام پر مکمل اعتماد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اعلیٰ عدالت میں اپنے تمام قانونی دلائل اور شواہد پیش کریں گے۔

قانونی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ صرف ترون تیج پال مقدمے تک محدود نہیں بلکہ جنسی استحصال کے مقدمات میں متاثرہ فرد کے رویے، گواہی اور حالات کے عدالتی جائزے کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر ہونے کی صورت میں اس مقدمے پر ایک مرتبہ پھر تفصیلی قانونی بحث متوقع ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button