سوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

ٹیم انڈیا کے آف اسپین اور آف بریک مشہور گیند باز ارشد ایوب

سلام بن عثمان

2 اگست 1958 کو آندھرا پردیش کے شہر حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ بائیں ہاتھ کے بلے باز اور بائیں ہاتھ ہی کے آف اسپین گیند باز تھے۔ اس کے علاوہ گیند بازی کے دوران وقفے وقفے سے وہ بہترین آف بریک گیند بازی میں اپنی شناخت بنائی۔ ارشد ایوب گورنمنٹ سٹی کالج کے طالب علم تھے۔ 

ارشد ایوب نے 25 نومبر 1987 میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ ویسٹ انڈیز کے خلاف دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ کے میدان میں کھیلا۔ اس دوران یکم دسمبر 1989 میں اپنا پہلا یک روزہ میچ پاکستان کے خلاف قدافی اسٹیڈیم میں کھیلا۔ 

ارشد ایوب نے اپنے 13 ٹیسٹ میچوں میں 257 رنز بنائے جس میں ایک نصف سنچری کے ساتھ بہترین اسکو رہا 58 رنز اور 41 وکٹیں حاصل کیں۔ تین مرتبہ پانچ وکٹیں لینے کا اعزاز بھی شامل ہے۔

32 یک روزہ میچوں میں 116 رنز بنائے۔ گیند بازی کے علاوہ بلے بازی میں بہترین کارکردگی رہی 31 رنز ناٹ آوٹ۔ یک روزہ میچوں میں گیند بازی میں31 وکٹیں ایک مرتبہ پانچ وکٹوں کی بہترین کارکردگی رہی۔ 21 رنز دے کر پانچ وکٹ اس کے ساتھ پانچ شاندار کیچ بھی شامل ہے۔ 98 فرسٹ کلاس میچوں میں 361 وکٹیں نیز بہترین گیند بازی 65 رنز دے کر آٹھ وکٹیں۔

بلے بازی میں 3014 رنز۔ بہترین کارکردگی رہی 206 رنز ناٹ آوٹ۔ دو سنچری اور 16 نصف سنچریاں شامل ہیں۔ 

ارشد ایوب نے اپنے 13 ٹیسٹ میچوں میں نیوزی لینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ، پاکستان کے خلاف دو ٹیسٹ۔ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف آٹھ ٹیسٹ میچ کھیلے۔ اس طرح یک روزہ میچوں کی 32 اننگز میں 31 وکٹیں حاصل کیں۔ 

ارشد ایوب کا شمار بہترین گیند بازوں میں شامل ہے۔ ارشد

ایوب بہترین آف اسپین گیند باز اور آف بریک گیند بازی کے ذریعے اپنی شناخت بنائی۔ ویسے تو انھوں نے 13 ٹیسٹ میچوں اور 32 یک روزہ میچوں کے ذریعے بہترین کارکردگی کی وجہ سے شہرت حاصل کی۔ ان کی بہترین کارکردگی 1988 میں رہی۔

جس وقت نیوزی لینڈ ٹیم نے ہندوستان کا دورہ کیا۔ اس سیزن میں ارشد ایوب نے 21 وکٹوں کا نشانہ بنایا۔ اس سیزن کے ممبئی ٹیسٹ میں 50 رنز دے کر آٹھ کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ یہ ان کی بہترین کارکردگی رہی۔ 1989 میں انھوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف چار میچوں کی سیریز میں دو مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

اس کے بعد 1989 میں پاکستان کے دورہ پر انھوں نے تین اننگز میں ایک بھی وکٹ حاصل نہیں کی۔ یہ ان کا آخری ٹیسٹ میچ رہا۔ مگر یک روزہ میچوں میں انھیں کھیلنے کا موقع ملتا رہا۔ 1988 میں ایشیا کپ میں پاکستان کے خلاف 21 رنز دے کر پانچ وکٹیں حاصل کیں جس کی وجہ سے پاکستان کی ٹیم 142 رنز پر سمٹ گئی۔

اس میچ کو ٹیم انڈیا نے 4 وکٹوں سے فتح حاصل کی۔ تین سال تک ارشد ایوب نے یک روزہ میچوں کا سفر جاری رکھتے ہوئے 72 وکٹیں حاصل کیں۔ اپنے کرکٹ سفر کے دوران ہی انھوں نے 1988 میں حیدرآباد کے مساب ٹینک میں کرکٹ اکیڈمی کی بنیاد رکھی۔ 2015 میں ٹیم انڈیا کے مینیجر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ 

ارشد ایوب نے اپنے کرکٹ اکیڈمی میں 14 سال کی عمر سے لے کر 19 سال کی عمر تک کے کرکٹ کھلاڑیوں کو حیدرآباد کی ریاستی سطح پر نمائندگی کرائی اور تقریباً 20 کھلاڑیوں کو رنجی ٹرافی میچ کھیلنے کا موقع بھی ملا۔ 

اس وقت ارشد ایوب حیدرآباد کرکٹ ایسوسیشن کے صدر ہیں۔ ساتھ ہی نئی نسل کو کرکٹ کی تربیت بھی دے رہے ہیں۔

٭٭٭٭

ارشد ایوب,آف بریک,کی,مشہور گیند باز,off-break-famous-bowler-arshad-ayub

متعلقہ خبریں

Back to top button