تلنگانہ:مسلم شادیوں کے لئے آدھارکارڈ کو لازمی قرار دیا گیا
نیز نوجوان مسلم لڑکیوں کی شادیاں کرانے والے ایسے قاضیوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
حیدرآباد، 24دسمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) تلنگانہ حکومت نے مسلم لڑکیوں کی شادیوں کے لئے آدھار کو لازمی کیاہے۔ نیز نوجوان مسلم لڑکیوں کی شادیاں کرانے والے ایسے قاضیوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جو ضابطوں کی خلاف ورزی کرتے پائیں جائیں۔ وقف بورڈ کو تمام شادیوں کی تفصیلات آن لائن داخل کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔حکومت نے یہ فیصلہ نوجوان لڑکیوں کی عرب شہریوں سے شادی کی شکایات موصول ہونے کے بعد کیا ہے۔ بچوں کی شادیوں کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے شادیوں کے لیے دولہا اور دلہن کے آدھار کارڈ کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور کسی دوسرے شناختی کارڈ کی بنیاد پر شادی کرنے پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔قاضیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آدھار کارڈ کی بنیاد پر اس بات کی نشاندہی کریں کہ دولہا اور دلہن بالغ ہیں یا نہیں۔
شادی کے فوراً بعد شادیوں کی تفصیلات وقف بورڈ کو پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، ایسا نہ کرنے کی صورت میں قاضیوں اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے۔قبل ازیں قاضیوں کا تقرر محکمہ اقلیتی بہبود کے ذریعہ کیا جاتا تھا لیکن اب اس میں معمولی تبدیلی کی گئی ہے۔ ضلع کلکٹر درخواست کاجائزہ لے گا اور محکمہ کو اپنی سفارش پیش کرے گا۔اس کے علاوہ نکاح نامہ آن لائن دستیاب رکھنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ ابھی تک شادی کے تمام معاملات تحریری طور پر ہوتے ہیں۔ ریاست بھر میں جہاں بھی شادی ہوتی ہے، نکاح نامہ حاصل کرنے کے لیے حیدرآباد کے حج ہاؤس سے رجوع ہونا پڑتا ہے۔چیرمین وقف بورڈ محمد مسیح اللہ خان نے کہا کہ تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں مسلم شادیوں کی تمام تفصیلات آن لائن رجسٹر کی جاتی ہیں۔ ماضی کی شادیوں کے علاوہ تمام موجودہ شادیاں وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہیں۔ اس سے دھوکہ دہی کو روکنے میں بہت مدد مل رہی ہے۔



