٭ سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹرس کے اندرون 15 یوم تقررات کی ہدایت
٭ دواخانوں میں تمام بستروں کو آکسیجن سے لیس کیا جائے
٭ معائنہ کے کٹس اور قرنطینہ کٹس کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ کیا جائے
٭ کورونا صورتحال پر جائزہ اجلاس میں چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی ہدایات
٭ لاک ڈاون کا نائیٹ کرفیو کی کوئی ضرورت نہیں ۔ عہدیداروں کا مشورہ
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تلنگانہ میں کورونا کیسوں میں اضافہ کے پیش نظر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤُ نے تمام تعلیمی اداروں کو 8 جنوری تا 16 جنوری تعطیلات کا اعلان کردیا ہے ۔ تاہم ریاست میں کسی طرح کے لاک ڈاون یا نائیٹ کرفیو کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پرگتی بھون میں کورونا اور اومی کرونا کی صورتحال پر ایک اعلی سطح کا جائزہ اجلاس منعقد کیا ۔
چیف منسٹر نے تلنگانہ کے تمام سرکاری دواخانوں میں ڈاکٹرس کی مخلوعہ جائیدادوں پر اندرون 15 یوم تقررات یقینی بنانے احکام جاری کئے ۔ انہوں نے کورونا اور اومی کرون مریضوں کی تعداد اور ان کی صحت کی تفصیلات حاصل کرنے کے بعد اہم فیصلے کئے ۔جائزہ اجلاس میں وزیر صحت ہریش راؤ کے علاوہ وزراء اندراکرن ریڈی‘ وی پرشانت ریڈی‘ ارکان اسمبلی و کونسل رویندر راؤ‘ وینکٹ رام ریڈی‘ لکشما ریڈی‘ جیون ریڈی‘ ہنمنت شنڈے‘ چیف سیکریٹری سومیش کمار‘ پرنسپل سیکریٹری ہیلت سید علی مرتضیٰ رضوی و دیگر عہدیدار موجود تھے ۔
چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ تمام سرکاری دواخانوں میں موجود تمام بستروں کو آکسیجن سے لیس کریں ۔انہوں نے قرنطینہ مریضوں کو دی جانے والی کٹس کی تعداد کو 20 لاکھ سے بڑھاکر1کروڑ کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ کورونا معائنہ کی کٹس جو فی الحال 35 لاکھ ہیں انہیں بڑھا کر 2 کروڑ کیا جائے۔
چیف منسٹر نے عہدیداروں کو قرنطینہ مراکز کیلئے ضلع کلکٹریٹس کی عمارتوں کے علاوہ ایسے اسکولوں کو حاصل کرنے کی تاکید کی جو بند ہیں۔ کے سی آر نے ریاست میں آبادی کے تناسب سے ڈاکٹرس ‘ دواخانوں و بستروں کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں اور آکسیجن کی سہولتوں کے متعلق دریافت کیا جس پر عہدیداروں نے چیف منسٹر کو بتایا کہ آکسیجن کی پیداوار میں اضافہ کیا جاچکا ہے اور اب تلنگانہ میں 500 میٹرک ٹن آکسیجن کی پیداوار کی صلاحیت ہے۔
علاوہ ازیں ریاست میں 350 میٹرک ٹن آکسیجن کی سربراہی کی گنجائش ہے جبکہ گذشتہ کورونا لہر میں 140 میٹرک ٹن کی سہولت تھی ۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ تلنگانہ کے تمام اضلاع میں کورونا معائنوں میں اضافہ کے علاوہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے رہنمایانہ خطوط پر سختی سے عمل آوری کو یقینی بنایا جائے۔
عہدیداروں نے اجلاس کے دوران چیف منسٹر کو ملک کی دیگر ریاستوں کے متعلق صورتحال سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں لاک ڈاؤن یا رات کے کرفیو کی ضرورت نہیں ہے لیکن عوام کو ماسک کے علاوہ سماجی فاصلہ کی برقراری کے لزوم کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے ۔
عہدیدارو ں نے چیف منسٹر کو زمینی حقائق سے واقف کرواتے ہوئے کہاکہ ریاست میں حالات مکمل قابو میں ہیں اور کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد پر قابو پانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ چیف منسٹر نے اجلاس کے دوران ڈائیلاسس کی سہولت میں اضافہ کرنے اور اس میں مزید بہتری کے اقدامات پر زور دیا اور کہا کہ ریاست میں فی الحال 10لاکھ مریضوں کو ڈائیلاسس کی سہولت دی جا رہی ہے اس میں اضافہ کیا جاناچاہئے ۔
انہوں نے عوام میں خوف و دہشت پیدا کرنے کے بجائے ان میں شعور بیدار کرنے کے علاوہ مرکزی حکومت کی ہدایات پر سختی سے عمل کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ چندر شیکھر راؤ نے عوام سے خوفزدہ نہ ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پوری طرح سے چوکس ہے اور ان حالات سے نمٹنے کیلئے محکمہ صحت کی سہولتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
چیف منسٹر کی جانب سے طلب کئے گئے جائزہ اجلاس میں ریاست کے مختلف اضلاع کے علاوہ کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقہ میں بستی دواخانوں کے قیام کے سلسلہ میں بھی فیصلہ کیا گیا ۔ چیف منسٹر نے عہدیدارو ںکو کورونا وائرس کی تیسری لہر سے نمٹنے کے سلسلہ میں خصوصی انتظامات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کے اسٹاک کا جائزہ لیتے ہوئے اس میں اضافہ کیا جائے اور کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ کی جائے۔
ڈاکٹرس کی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں چیف منسٹر نے کہا کہ اندرون 15یوم تمام جائیدادوں پر تقررات کے عمل کو مکمل کیا جائے ۔انہو ں نے اجلاس کے دوران دنیا کے دیگر ممالک میں کورونا کی صورتحال اور بیرونی مسافرین میں پائے جانے والے وائرس کی صورتحال کے متعلق تفصیلات حاصل کیں ۔



