تلنگانہ حکومت گچی باؤلی میں 400 ایکر اراضیات نیلام کرے گی,20 ہزار کروڑ روپئے کی آمدنی متوقع
بولی کا عمل شروع ، اراضیات، ہائی ٹیک سٹی اور فینانشیل ڈسٹرکٹ کے قریب
حیدرآباد (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز) – ریاست تلنگانہ کی ترقی میں اہم سنگ میل ثابت ہونے والے گچی باؤلی علاقے میں حکومت 400 ایکر سرکاری اراضی کی نیلامی کے لیے تیار ہے۔ تلنگانہ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن (TIIC) نے اس اراضی کے لیے ایک ماسٹر لے آؤٹ ڈیزائن تیار کیا ہے، جبکہ نیلامی کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہوچکا ہے۔
یہ اراضی حیدرآباد کے مغربی علاقے میں واقع ہے، جو ہائی ٹیک سٹی اور فینانشیل ڈسٹرکٹ کے انتہائی قریب ہے۔ ان علاقوں میں 100 سے زائد آئی ٹی اور کارپوریٹ کمپنیاں موجود ہیں، جہاں 10 لاکھ سے زائد ملازمین کام کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق، حکومت تلنگانہ کو اس نیلامی سے 20 ہزار کروڑ روپئے کی خطیر آمدنی حاصل ہونے کی توقع ہے۔
گچی باؤلی، شہر کا نیا معاشی مرکز
گچی باؤلی، حیدرآباد کے تیزی سے ترقی پذیر علاقوں میں شامل ہے، جو نہ صرف آئی ٹی انڈسٹری بلکہ رہائشی اور کمرشل سرمایہ کاری کے لحاظ سے بھی اہم مانا جاتا ہے۔ نیلامی کے دستاویزات کے مطابق، یہ قیمتی زمین ہائی ٹیک سٹی سے 7 تا 8 کیلومیٹر، پنجہ گٹہ چوراستہ سے 15 تا 18 کیلومیٹر، سکندرآباد ریلوے اسٹیشن سے 22 کیلومیٹر، جبکہ شمس آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 33 کیلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
2006ء کی الاٹمنٹ اور حالیہ نیلامی کا پس منظر
یہ وہی 400 ایکر سرکاری اراضی ہے جو 2006ء میں اس وقت کی حکومت نے سری لنگم پلی منڈل کے گچی باؤلی سروے نمبر 25 میں واقع آئی ایم جی اکیڈمکس، بھارت پرائیویٹ لمیٹیڈ کو الاٹ کی تھی۔ تاہم، حالیہ برسوں میں حکومت نے اس الاٹمنٹ کو منسوخ کردیا، جس کے نتیجے میں یہ معاملہ عدالت تک پہنچا۔ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد، زمین دوبارہ ریاستی حکومت کے حوالے کر دی گئی، اور موجودہ کانگریس حکومت نے اس کی نیلامی کا فیصلہ کیا۔
بڑی کارپوریٹ کمپنیوں کی دلچسپی متوقع
حکومتی ذرائع کے مطابق، اس نیلامی میں متعدد بڑی کارپوریٹ کمپنیاں، ڈیولپرز اور سرمایہ کار بھرپور دلچسپی لے رہے ہیں۔ اس علاقے میں پہلے ہی حیدرآباد نالج سٹی (470 ایکر) واقع ہے، جو ریاست کے تعلیمی اور تجارتی شعبے کے لیے ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔
یہ نیلامی تلنگانہ حکومت کے مالی استحکام اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ایک اہم اقدام ثابت ہوسکتی ہے۔ سرمایہ کاروں اور کارپوریٹ کمپنیوں کی جانب سے مثبت ردعمل متوقع ہے، جبکہ اس منصوبے سے حیدرآباد کی معیشت اور روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوگا۔



