اشوکا یونیورسٹی اور وی ہب کے زیر اہتمام وبینار سے رکن کونسل کویتا کاخطاب
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن)کسی بھی اسٹارٹ اپ کی کامیابی کیلئے ٹیم ورک بنیاد اصول ہے اور بیشتر اسٹارٹ اپس ناقص ٹیم منجمنٹ کی وجہ سے ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ ’’سیاست ، قیادت اور پالیسی سازی‘‘ کے زیر عنوان اشوکا یونیورسٹی اور وی ہب کے اشتراک سے منعقدہ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے تلنگانہ رکن قانون ساز کونسل محترمہ کلواکنٹلہ کویتا نے ان خیالات کا اظہار کیا۔
خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ آگے آرہی ہیں
کویتا نے کہا کہ اختراعی ٹکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت، بگ ڈاٹا، آئی او ٹی میں انسانیت کو درپیش کئی ایک مسائل حل کرنے کی صلاحیت ہے ۔ کویتا نے کہا کہ اسٹارٹ اپس کے قیام میں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ آگے آرہی ہیں اور ملک میں کئی ایک اسٹارٹ اپس ہے جن کو خواتین کامیابی کے سربراہی کررہی ہے۔
اسٹارٹ اپ کی کامیابی کیلئے ٹیم ورک بنیادی وصول
کویتا نے خواتین کی جانب سے قائم کردہ اسٹارٹ اپس کی رہمائی کیلئے وی ہب کے رول کی بھرپور ستائش کی جس نے ریاست خصوصا حیدرآباد میں کئی ایک اسٹارٹ اپس کی رہنمائی کی اور انہیں مالی اعانت بھی فراہم کی۔ محترمہ کویتا نے ویبینار کے انعقاد پر اشوکا یونیورسٹی کے سنٹر فار انٹرپرینیورشپ اور وی ہب کو مبارکباد دی اور کہا کہ اس طرح کے ویبینارز وقتاً فوقتاً منعقد ہونے چاہئے تاکہ اختراعی ٹکنالوجیز پر کام کرنے والے اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی ہو۔
ویبینار میں اشوکا یونیورسٹی کے منتظمین، وی ہب سی ای او دیپتی راولا کے علاوہ یونیورسٹی کے 1500 طلباء نے بذریعہ آن لائن شرکت کی۔ رکن کونسل کویتا نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ملک میں اور بین الاقوامی سطح پر مواقع کی کمی نہیں ہے اور آن لائن تجارت کے بے شمار مواقع ہیں اور ان سے فائندہ اٹھانے کیلئے کسی ایک شخص کے اختراعی صلاحیتیں کافی نہیں ہیں
بلکہ ایک ٹیم کے طور پر انہیں حاصل کرنے کوشش کی ضرورت ہے۔ کویتا نے کہا کہ ایک سروے کے مطابق ملک کی 90 فیصد اسٹارٹ اپس ناکام ہیں جس کی اہم وجہ ٹیم ورک کافقدان ہے۔
کویتا نے کہا کہ حکومتوں کو چاہئے وہ بہتر پالیسیز کے ذریعہ کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کریں اور ترقی یافتہ ممالک کے ماڈلز کا مطالعہ کرتے ہوئے تجارت کو فروغ دیں اور کرپشن کو روکنے کیلئے بہتر پالیسیاں بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ اختراعی ٹکنالوجیز سے متعلق قومی سطح پر علیحدہ نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔
اسٹارٹ اپس میں خواتین کے رول سے متعلق ایک سوال پر کویتا نے کہا کہ خواتین کو با اختیار بنانے اورکاروبار شروع کرنے ان کی اعانت کرنے کیلئے ریاستی حکومت سنجیدہ ہے اور اسی کو فروغ دینے کی غرض سے وی ہب کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔
انہوں نے کہا ریاستی حکومت نے بلدیاتی اداروں میں خواتین کو 50 فیصد تحفظات فراہم کئے ہیں اور مارکٹ کمیٹی میں خواتین کو 33 فیصد عہدے دئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ خصوصی تعلیمی اداروں اور بیوگان کو پنشن کی فراہمی کے ذریعہ خواتین کی مالی خودمختاری کیلئے حکومت کام کررہی ہے۔ آخر میں کویتا نے ویبینار میں شریک افراد کا شکریہ ادا کیا۔





