تلنگانہ کی خبریں

پی آر سی پر عمل آوری میں تاخیر، تلنگانہ سرکاری ملازمین میں شدید ناراضی

کانگریس حکومت کا وعدہ پورا نہ ہونے پر ملازمین برہم، پی آر سی پر فوری عمل آوری کا مطالبہ

حیدرآباد: ریاست تلنگانہ کے سرکاری ملازمین پی آر سی اور ڈی اے کے ساتھ دیگر بقایہ جات کی عدم اجرائی پر حکومت سے سخت ناراض ہیں۔ مرکزی حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں پر نظر ثانی کے لیے آٹھویں پے کمیشن کا اعلان کردیا ہے، تاہم ریاستی حکومت اس معاملہ میں ٹال مٹول کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے۔

کانگریس پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد حکومت کی تشکیل کے چھ ماہ کے اندر نئی پی آر سی پر عمل کرنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس پر ابھی تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ اس تاخیر کی وجہ سے سرکاری ملازمین، اساتذہ اور پنشنرس میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔

تلنگانہ کی پہلی پی آر سی کی میعاد 30 جون 2023 کو مکمل ہوچکی تھی، اور اسی سال جولائی سے دوسری پی آر سی پر عمل درآمد لازمی تھا۔ سابق بی آر ایس حکومت نے دوسری پی آر سی کمیٹی تشکیل دی تھی جسے چھ ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرنا تھی، تاہم بعد میں اس کی میعاد 2 اپریل 2024 تک بڑھا دی گئی۔ اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر کمیٹی کو مزید چھ ماہ کی مہلت دی گئی تھی۔

اب جبکہ یکم اکتوبر کو پی آر سی کمیٹی تشکیل دیے دو سال مکمل ہوچکے ہیں، سرکاری ملازمین اور تنظیموں کے نمائندوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جلد از جلد پی آر سی رپورٹ کو نافذ کیا جائے اور ملازمین کو 51 فیصد فٹمنٹ دینے کی تجویز پر غور کیا جائے۔

ملازمین کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ریاستی حکومت کی مسلسل تاخیر اور وعدہ خلافی سے ملازمین کا اعتماد مجروح ہورہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جلد کوئی واضح قدم نہیں اٹھایا گیا تو احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button